دریائے سوات میں پیش آنے والے افسوسناک سانحے پر قائم کی گئی 3 رکنی انکوائری کمیٹی مقررہ 7 روزہ ڈیڈ لائن میں رپورٹ پیش نہ کر سکی۔ حکومت کی ہدایت کے باوجود اب تک تحقیقات مکمل نہیں ہو سکیں، جس پر متاثرہ خاندانوں اور عوامی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
قومی اخبار (روزنامہ جنگ ویب سائٹ) کے مطابق، کمیٹی کو واقعے کے بعد سات دن کے اندر رپورٹ مرتب کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ تاہم 13 قیمتی جانوں کے ضیاع کے اس المناک واقعے کی حتمی رپورٹ تاحال منظر عام پر نہیں آ سکی۔
ذرائع کے مطابق، انکوائری کے دوران 50 سے زائد متعلقہ افسران اور اہلکاروں کے بیانات قلم بند کیے جا چکے ہیں۔ کمیٹی نے ریسکیو 1122، محکمہ آبپاشی، ریلیف، پی ڈی ایم اے، ٹی ایم اے اور دیگر محکموں سے بھی تفصیلی معلومات حاصل کی ہیں۔
انکوائری کمیٹی سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ کو حتمی شکل دی جا رہی ہے اور آئندہ 2 سے 3 روز میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ 27 جون کو دریائے سوات میں اچانک طغیانی کے باعث دریا میں موجود سیاح اور مقامی افراد پھنس گئے تھے، جس کے نتیجے میں 13 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ اس واقعے نے نہ صرف عوام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، بلکہ متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے۔
متاثرہ خاندانوں اور سول سوسائٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ انکوائری رپورٹ جلد از جلد منظر عام پر لائی جائے اور غفلت کے مرتکب عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔





