شانگلہ قومی جرگہ اور حکومت خیبرپختونخوا کے درمیان کروڑہ ہائیڈل پراجیکٹ پر اہم مذاکرات کامیابی سے مکمل ہوئے۔
جرگے کی قیادت معروف سیاسی و سماجی رہنما نواز خان شانگلہ (سابق امیدوار قومی اسمبلی این اے 11) اور نعیم ایڈووکیٹ صاحب نے کی۔
مذاکرات میں صوبائی وزیر توانائی خیبرپختونخوا طارق صدوذئی ، ڈپٹی کمشنر شانگلہ فواد خان اور سی ای او پیڈوعرفان وزیر سمیت اعلیٰ سطحی حکومتی وفد شریک ہوا۔
حکومت نے جرگے کو مکمل عوامی مسائل کے حل کے لیے پختہ یقین دہانیاں کروائیں۔
جرگے کے آغاز میں نعیم ایڈووکیٹ اور نواز خان شانگلہ نے فورم کو عوام کو درپیش مسائل اور ان کے جائز مطالبات پر تفصیلی بریفنگ دی، جس پر حکومت نے سنجیدگی سے غور کیا اور فوری اقدامات پر آمادگی ظاہر کی۔
جرگے کے شرکاء اور حکومت کے درمیان عوامی مفاد کے مزید پیکج شامل کرنے کے معاہدوں پر دستخط ہوئے۔
اس نئے پیکج میں اسکولوں، بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) اور واٹر سپلائی اسکیموں کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وزیر توانائی نے تین یونین کونسلوں کے عوام کے حقوق کی ہر فورم پر بھرپور حمایت کی یقین دہانی بھی کرائی۔
تین یونین کونسلوں کے لیے مائیکرو اور منی ہائیڈل پراجیکٹس کی نئی اسکیمیں بھی منظور کی گئیں اور ہدایت دی گئی کہ متعلقہ سروے رپورٹ جلد از جلد پیش کی جائے۔
اسی طرح نئے میٹرز کی تنصیب کے اخراجات عوام سے آسان اقساط میں وصول کرنے کی منظوری دی گئی ہے اور یہ معاملہ پیسکو کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔
حکومت اور جرگہ نے مل کر عوامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے کم نرخوں پر بجلی کی فراہمی کا فارمولہ بھی طے کیا، جس سے مقامی لوگ زیادہ مستفید ہوں گے۔
مزید برآں، 48.5 کروڑ روپے کی لاگت سے ٹرانسمیشن لائنز کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ڈپٹی کمشنر شانگلہ کی زیر نگرانی ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جس میں قومی جرگہ، پیسکو کے نمائندے شامل ہونگے۔
متاثرین کے لیے روزگار کی فراہمی کے حوالے سے اُٹھائے گئے مطالبے پر وزیر توانائی نے یقین دلایا کہ تمام سطحوں پر ملازمتوں میں تین یونین کونسلوں اور شانگلہ کے امیدواروں کو ترجیح دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور،سست روی کے شکار منصوبوں کے فنڈز منجمد یا فعال منصوبوں کو منتقل کئےجاسکتے ہیں،ترقیاتی بجٹ پالیسی ریلیز جاری
اس موقع پر وزیر توانائی نے حکومت اور جرگہ کی جانب سے نواز خان شانگلہ (سابق امیدوار این اے 11) کا حکومت اور عوامی جرگہ کے درمیان مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنے پر خصوصی شکریہ ادا کیا جس سے دیرینہ مسائل کے حل کی راہ ہموار ہوئی۔





