گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اگر خیبرپختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن کا ایک بھی رکن حکومتی ارکان سے زیادہ ہوگیا تو اپوزیشن کا آئینی حق ہے کہ تحریکِ عدم اعتماد لائے۔
وی نیوز کے مطابق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں اس وقت اپوزیشن کے پاس 52 نشستیں ہیں جبکہ صوبائی اسمبلی میں 30 ارکان آزاد حیثیت میں موجود ہیں، اگر کسی بھی دن اپوزیشن کو عددی برتری حاصل ہوئی تو ہم تحریکِ عدم اعتماد پیش کرنے کا جمہوری حق ضرور استعمال کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاق یا پنجاب میں بھی اگر اپوزیشن کی اکثریت ہوئی تو وہ تحریکِ عدم اعتماد لا سکتی ہے، ہم پہلے بھی قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک لاچکے ہیں، اس آئینی حق سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔
سیاسی معاملات پر بات کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ہم سیاسی لوگ ہیں، کبھی یہ نہیں کہتے کہ کسی سے ہاتھ نہیں ملائیں گے یا غمی خوشی میں شریک نہیں ہوں گے، ہماری بہت سی ملاقاتیں آن کیمرہ ہوتی ہیں اور بہت سی آف دی ریکارڈ ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :سانحہ سوات کی انکوائری رپورٹ وزیراعلیٰ کو پیش،غفلت کےمرتکب افسران کی نشاندہی
سینیٹ انتخابات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اے این پی کے پاس امیدوار کم ہیں، اس لیے انہوں نے تاحال کسی کو نامزد نہیں کیا، ہماری کوشش ہے کہ خیبرپختونخوا سے پانچ نشستیں نکالیں۔





