پشاور: خیبرپختونخوا میں 21جولائی کو ہونیوالا سینیٹ انتخاب بلامقابلہ ہونے کا امکان کم پڑ گیا۔
پی ٹی آئی کی جانب سے چار اراکین عرفان سلیم، فیض الرحمان، خرم ذیشان اور عائشہ بانو نے کاغذات نامزدگی واپس لینے سے انکار کردیا ہے جس کے بعد اپوزیشن اور حکومت کی جانب سے 5/6 فارمولا کے تحت بلامقابلہ سینیٹرز کے انتخاب میں مشکلات بڑھ گئیں۔
پی ٹی آئی کی جانب سے عرفان سلیم کو نظرانداز کرنے کے بعد مرزا آفریدی کو ٹکٹ جاری کیا گیا جس کے خلاف گذشتہ روز پشاور پریس کلب کے سامنے کارکنان کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا۔
اس احتجاج میں پشاور ریجن کے جنرل سیکرٹری و ایم این اے شیرعلی ارباب نے بھی شرکت کی۔
اس حوالے سے پی ٹی آئی ضلع پشاور کے صدر اور نامزد امیدوار عرفان سلیم نے پختون ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ شب انہیں کاغذات واپس لینے کا کہا گیا اور کاغذات نامزدگی واپس لینے کی درخواست بھیجی گئی جس پر انہوں نے دستخط سے انکار کردیا ہے۔ انکے مطابق وہ کسی بھی صورت انتخاب سے دستبردار نہیں ہوں گے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بلامقابلہ انتخاب کیلئے مذاکرات کے کئی نشستیں ہوئیں جس میں حکومت کو چھ جبکہ اپوزیشن کو پانچ نشستیں دینے پر اتفاق کیا گیا تاہم ابھی تک باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : عوامی نیشنل پارٹی کا 26جولائی کو پشاورمیں قومی امن جرگہ بلانے کا اعلان
مذاکرات میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ مخصوص ناموں کے علاوہ دیگر اراکین کاغذات نامزدگی واپس لیں گے لیکن پی ٹی آئی کے دو اراکین کی جانب سے کاغذات نامزدگی واپس لینے سے انکار کے بعد 21 جولائی کو انتخابات میں پولنگ کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔





