وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ سینیٹ انتخابات کے حوالے سے ایک مشاورتی ملاقات ہوئی تھی جو ہو رہا ہے وہ ہارس ٹریڈنگ نہیں بلکہ ڈنکی ٹریڈنگ ہے اور سینٹ میں خرید و فروخت کا عمل سب سے زیادہ گھٹیا کام ہے۔
علی امین گنڈا پور کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ پہلے 8 اور 3 کے فارمولے پر اتفاق ہوا تھا لیکن اب ہمیں 6 نشستیں ملی ہیں جبکہ اپوزیشن کو 5 نشستیں دی گئی ہیں۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اسی لیے پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ سینٹ انتخابات میں خرید و فروخت نہیں ہونی چاہیے، یہ صوبے کی تاریخ میں پہلی بار اتنا اچھا فیصلہ ہو رہا ہے، امین گنڈا پور نے کہا کہ پنجاب کے سینٹ انتخابات میں بھی انہوں نے یہی اصول اپنایا تھا۔
علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ عدالتی حکامات کے مطابق مخصوص نشستوں پر منتخب ارکان گورنر ہاؤس میں حلف لیا گیا۔
وزیراعلیٰ کا کہنا ہےکہ بانی پی ٹی آئی کے فیصلے کی نفی، بانی پی ٹی آئی کی نفی ہے،، ناراض امیدواروں کے خلاف پارٹی کارروائی بھی کی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن سے اتحاد صرف سینٹ انتخابات تک محدود ہے اس کے علاوہ، امیدواروں کی جانب سے کاغذات واپس نہ لینے کی وجہ سے پارٹی کو نقصان بھی اٹھانا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں مخصوص نشستوں پر منتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ بانی پاکستان تحریک انصاف کے احکامات پر ہو رہا ہے۔





