پشاور: اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے پشاور ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے اور الیکشن کمیشن کے مراسلے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان کو باضابطہ خط ارسال کر دیا ہے۔
خط میں اسپیکر نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی جانب سے گورنر خیبرپختونخوا کو براہ راست ارکان اسمبلی سے حلف لینے کی ہدایت آئینی حدود سے تجاوز ہے، کیونکہ اس نوعیت کے احکامات عدالتی یا انتظامی دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔
بابر سلیم سواتی کا کہنا ہے کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 130 اور 255 کے تحت اسپیکر کا منصب ایک خودمختار آئینی اتھارٹی ہے، اور ان کی جانب سے اجلاس کا التواء کسی طور غیر موجودگی کے زمرے میں نہیں آتا۔


ان کے مطابق اسمبلی اجلاس کی صدارت اور التواء کا اختیار صرف اسپیکر کو حاصل ہے، جسے کسی اور اتھارٹی کے ذریعے معطل یا نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اسپیکر نے مزید کہا کہ وہ اس غیر آئینی مداخلت کے خلاف آئینی رٹ دائر کر رہے ہیں تاکہ عدالتی دائرہ اختیار کے دائرہ کار کا تعین کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں : گورنر ہاؤس میں جمہوریت کو روند کر حلف اٹھایا گیا، مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا
ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ صرف حلف برداری تک محدود نہیں بلکہ پارلیمانی خودمختاری اور آئینی اصولوں کے تحفظ سے متعلق ہے۔
بابر سلیم سواتی نے اعلان کیا کہ وہ ہر آئینی اور قانونی راستہ اپنائیں گے تاکہ ایسے اقدامات کو روکا جا سکے جو پارلیمانی نظام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔





