خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات آج ہونگے، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان معاہدے کے بعد کئی امیدوار دستبردار

خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات آج ہونگے، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان معاہدے کے بعد کئی امیدوار دستبردار

خیبرپختونخوا میں سینیٹ کی گیارہ خالی نشستوں پر ضمنی انتخابات آج ہوں گے۔ انتخابی عمل سے قبل حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اہم معاہدہ طے پایا، جس کے تحت چھ نشستیں حکومت جبکہ پانچ اپوزیشن کے حصے میں آئیں گی۔ معاہدے کے بعد متعدد امیدوار میدان سے دستبردار ہو گئے ہیں۔

نجی ٹی وی چینل (آج نیوز)کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات کے لیے ضابطہ اخلاق جاری کر دیا گیا ہے۔ ضابطے کے مطابق پولنگ اسٹیشنز میں موبائل فون یا کسی بھی قسم کی الیکٹرانک ڈیوائس کے استعمال پر مکمل پابندی عائد ہوگی، جبکہ بیلٹ پیپر کی تصویر لینا بھی سختی سے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

پولنگ خیبرپختونخوا اسمبلی کے جرگہ ہال میں ہوگی، جہاں کل 145 اراکین اسمبلی اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ سینیٹ کی جن نشستوں پر انتخاب ہونا ہے، ان میں 7 جنرل، 2 ٹیکنوکریٹ اور 2 خواتین کی مخصوص نشستیں شامل ہیں۔

انتخاب سے قبل وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اور اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد کے درمیان ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں انتخابی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے بعد وزیر اعلیٰ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’سینیٹ انتخابات میں خرید و فروخت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ہم نے اپوزیشن کے ساتھ شفاف معاہدے کے تحت چھ نشستیں حکومت اور پانچ اپوزیشن کو دینے پر اتفاق کیا ہے۔‘‘

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے پانچ ناراض امیدواروں میں سے چار وقاص اورکزئی، ارشاد حسین، عرفان سلیم اور عائشہ بانو نے باضابطہ طور پر دستبرداری کا اعلان کر دیا ہے۔

ارشاد حسین نے الیکشن کمیشن کو تحریری طور پر کاغذات نامزدگی واپس لینے کی درخواست بھی جمع کرا دی ہے، اور کہا کہ یہ فیصلہ پارٹی قیادت کے حکم کے مطابق کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ کے ترجمان کے مطابق، خرم ذیشان واحد ناراض امیدوار ہیں جنہوں نے اب تک انتخابی دوڑ سے علیحدگی کا اعلان نہیں کیا۔

وقاص اورکزئی نے وزیراعلیٰ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’’کاغذات واپس لینے کا مطلب یہ نہیں کہ میں اپنے نظریے سے ہٹ گیا ہوں۔ مجھے بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ نے یقین دہانی کروائی ہے کہ سینیٹ امیدواروں کے نام بانی پی ٹی آئی کی منظوری سے فائنل کیے گئے ہیں۔‘‘

وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ناراض امیدواروں کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا، ’’الحمدللہ وقاص اورکزئی نے بانی کے فیصلے کا احترام کیا، اور مجھے فخر ہے کہ انہوں نے ذاتی مفاد پر پارٹی کے نظریے کو ترجیح دی۔ یہی جذبہ کرپشن سے پاک نئے پاکستان کی بنیاد بنے گا۔‘‘

Scroll to Top