وادی تیراہ میں کشیدگی، جرگہ کامیاب، مظاہرین نے احتجاج ختم کر دیا

وادی تیراہ میں کشیدگی، جرگہ کامیاب، مظاہرین نے احتجاج ختم کر دیا

خیبر کے علاقے وادی تیراہ باغ میں حالیہ فائرنگ کے واقعے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے تناظر میں قبائلی عمائدین اور سیکیورٹی حکام کے درمیان ایک جرگہ منعقد ہوا۔ جرگے کے بعد مظاہرین نے کچھ مطالبات تسلیم کیے جانے پر احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

جرگہ تیراہ ملیشیا کے بریگیڈیئر کی زیر نگرانی ہوا، جس میں سول و عسکری حکام اور مقامی قبائلی مشران نے شرکت کی، جرگے میں قبائلی عمائدین نے سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں 10 سالہ بچی سمیت پانچ افراد کی ہلاکت کے خلاف پانچ اہم مطالبات پیش کیے۔

معصوم بچی کے قتل میں ملوث اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج کا مطالبہ کیا گیا، قبضے میں موجود مقامی گھروں کی 15 روز میں واپسی، علاقے میں ڈرونز کے استعمال پر مکمل پابندی، چیک پوسٹوں پر شہریوں کو ہراساں کرنے کا خاتمہ اور شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کا مطالبہ کیا گیا۔

بریگیڈیئر نے مظاہرین کے کچھ مطالبات تسلیم کرتے ہوئے ہر شہید کے لواحقین کو 15 لاکھ روپے اور ہر زخمی کو 2 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا جبکہ زخمیوں کے مفت علاج کی بھی یقین دہانی کرائی گئی۔

اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور گھروں کی واپسی سے متعلق مطالبات کو قبل از وقت قرار دے کر مسترد کر دیا گیا۔

سیکیورٹی حکام نے جرگے میں واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی، حکام نے شفاف تحقیقات، متاثرین کو فوری ریلیف اور قانون کے تحت مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

جرگے میں وادی میں دیرپا امن، عوامی اعتماد کی بحالی اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال ہوا، حکام کا کہنا تھا کہ امن و استحکام کے لیے تمام فریقین کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: بنوں پولیس نے دہشتگردوں کا ڈرون سسٹم جام کر کے حملہ ناکام بنا دیا

گزشتہ روز سیکیورٹی فورسز کے ایک سرچ آپریشن کے دوران فائرنگ سے 10 سالہ بچی جاں بحق ہو گئی تھی جس کے خلاف مقامی افراد اور متاثرہ خاندانوں نے تیراہ بریگیڈ ہیڈ کوارٹر کے سامنے شدید احتجاج کیا۔

مظاہرے کے دوران پیش آنے والے مزید فائرنگ واقعے میں پانچ افراد جاں بحق اور 17 زخمی ہوئے تھے۔

Scroll to Top