سینیٹ انتخابات میں امن کی خاموشی ،سینئر صحافی طارق وحید نے اصل حقائق بتا دیے

پشاور: سینئر صحافی طارق وحید نے خیبرپختونخوا پولیس خصوصاً سی ٹی ڈی کی موجودہ حالات میں مکمل امن قائم رکھنے کی صلاحیت کو محدود قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فورس صرف مخصوص علاقوں تک محدود کارروائی کر سکتی ہے۔

انہوں نے وزیراعلیٰ کے بیان کو سیاسی رنگ دینے کا امکان ظاہر کیا اور کہا کہ اصل چیلنج فوج اور دیگر اداروں کے بغیر حل نہیں ہو سکتا۔

طارق وحید نے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ اور وزیرداخلہ کے الزامات درست ہیں تو اس کا مطلب اداروں کے درمیان رابطے کی شدید کمی ہے۔ امن و امان کا معاملہ صوبائی ہونے کے باوجود سرحدات کی حفاظت میں وفاقی حکومت کی ذمہ داری بھی اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ دو دن قبل سینیٹ انتخابات کے دوران تمام سیاسی جماعتیں ایک میز پر تھیں، مگر امن کے موضوع پر کوئی اتفاق رائے نہ ہو سکا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اور سیاسی جماعتیں امن کے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہیں۔

طارق وحید نے پختون ڈیجیٹل پوڈ کاسٹ میں کہا کہ ملک میں گزشتہ بیس سالوں میں 21 بڑے آپریشن کیے گئے لیکن امن کے کوئی مثبت نتائج سامنے نہیں آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے مختلف فریقوں کے درمیان اتفاق اور اتحاد ناگزیر ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ملک کے امن و استحکام کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، مولانا طاہر اشرفی

انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ امن و امان جیسے قومی مسئلے کو سیاست کا حصہ بنایا جا رہا ہے جو ملک کے لیے نہایت تشویشناک ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی اور امن و امان کا مسئلہ صرف ایک صوبے یا سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ پوری قوم کا مشترکہ چیلنج ہے، جس کے حل کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔

Scroll to Top