نوکری کا خوف یا ذمہ داری؟ محمود جان بابر نے پرائیوٹ اور سرکاری سیکٹر کی حقیقت بتا دی

اسلام آباد: سینئر صحافی محمود جان بابر نے سرکاری محکموں میں جوابدہی کے نظام کی عدم موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وجہ سے عوامی معاملات میں شفافیت اور احتساب کا فقدان ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس، پرائیویٹ اداروں میں ملازمین اپنی نوکری کے تحفظ کے خوف سے ہر قسم کی کارروائی سے گریز نہیں کرتے، جس سے وہاں کام کا معیار بہتر رہتا ہے۔

پختون ڈیجیٹل پوڈ کاسٹ میں گفتگو کے دوران محمود جان بابر نے کہا کہ پرائیویٹ شعبے میں کام کا دباؤ زیادہ ہوتا ہے، اس لیے اداروں میں ذمہ داری نبھائی جاتی ہے۔

لیکن سرکاری اداروں میں اکثر افسر اور ملازمین اپنی ڈیوٹی کے دوران غیر ضروری کاموں کے لیے باہر جا بیٹھتے ہیں، جس کی وجہ سے کوئی شہری جب دفتر آتا ہے تو متعلقہ فرد دستیاب نہیں ہوتا۔

انہوں نے بی آر ٹی کا حوالہ دیا جہاں صفائی اور مرمت کا کام باقاعدہ کیا جاتا ہے، کیونکہ اس میں ملازمین آؤٹ سورس کیے گئے ہیں اور عوام کو فوری خدمات ملتی ہیں، لیکن سرکاری شعبے میں یہ ممکن نہیں کیونکہ کارکردگی اور جوابدہی کا سسٹم غائب ہے۔

محمود جان بابر نے کہا کہ سرکاری محکموں کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے ضروری ہے کہ افسران اور نوکرشاہوں دونوں کے لیے جوابدہی کو لازمی قرار دیا جائے۔ ایسا نہ ہوا تو بڑے سے بڑا افسر اور چھوٹے سے چھوٹا ملازم اپنی ذمہ داری سے فرار اختیار کرتا رہے گا، اور اصلاحات ممکن نہیں۔

یہ بھی پڑھیں : سینیٹ انتخابات میں امن کی خاموشی ،سینئر صحافی طارق وحید نے اصل حقائق بتا دیے

انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ سوات میں سیلاب کے دوران جہاں عوام کی مدد کی توقع تھی، وہی متعلقہ ادارے مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے، باوجود اس کے کہ انہیں سالانہ 860 ارب روپے کے بجٹ سے نوازا جاتا ہے۔

محمود جان بابر کا مؤقف ہے کہ سرکاری اور نجی شعبوں کے فرق کو ختم کرنے کے لیے جوابدہی، شفافیت اور عوامی خدمت کے فلسفے کو سرکاری اداروں میں لانا ضروری ہے۔ تاکہ نہ صرف عوام کو سہولتیں فراہم ہوں بلکہ حکومتی کارکردگی بھی بہتر ہو۔

Scroll to Top