خیبرپختونخوا میں تعلیمی اصلاحات اور بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود سرکاری اسکولوں کے میٹرک کے نتائج انتہائی مایوس کن ثابت ہوئے ہیں۔ متعدد تعلیمی اداروں میں طلبہ کی بڑی تعداد امتحانات میں ناکام رہی، جب کہ کئی اسکولوں میں تو ایک بھی طالب علم کامیاب نہ ہو سکا۔
دستاویزات کے مطابق پشاور بورڈ سے منسلک صرف 29 سرکاری اسکولوں کے 739 طلبہ نے میٹرک امتحانات میں شرکت کی، جن میں سے صرف 151 طلبہ کامیاب قرار پائے، جب کہ باقی 588 ناکام رہے۔
چترال، پشاور، مہمند، خیبر اور چارسدہ کے اسکول بری طرح ناکام
چترال، مہمند، خیبر، چارسدہ اور پشاور کے سرکاری اسکولوں کے نتائج تشویشناک حد تک خراب رہے۔
گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول بیوری چترال کے تمام طلبہ فیل قرار پائے۔
گورنمنٹ مڈل اسکول بیگشت چترال کے 7 میں سے کوئی بھی طالب علم کامیاب نہ ہو سکا۔
گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول ہریانہ پایان، پشاور کی 18 میں سے 18 طالبات ناکام رہیں۔
دامن افغانی، رجڑ چارسدہ، اور حاجی بانڈہ پشاور کے اسکولوں میں بھی فیل ہونے کی شرح 80 سے 100 فیصد کے درمیان رہی۔
ناکامی کی بنیادی وجوہات اور ماہرین کی تشویش
نجی ٹی وی چینل (دنیا نیوز)کے مطابق طلبہ کی ناکامی کی بڑی وجہ ایک، دو یا تین مضامین میں فیل ہونا بتائی جا رہی ہے۔ کئی کلاسز میں صرف ایک یا دو طلبہ ہی کامیاب ہو سکے، جو تعلیمی نظام میں شدید خامیوں کی عکاسی کرتا ہے۔
تعلیمی ماہرین نے ان نتائج کو ’’نظامِ تعلیم کی ناکامی‘‘ قرار دیتے ہوئے صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم سے فوری اصلاحی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتِ حال برقرار رہی تو آنے والی نسلوں کا مستقبل خطرے میں ہے۔
مطالبہ برائے اصلاحات
ماہرین تعلیم، اساتذہ تنظیمیں اور والدین کی تنظیمیں اب حکومت سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ نہ صرف نتائج کا تفصیلی جائزہ لے بلکہ اس تعلیمی زوال کے اسباب پر آزادانہ تحقیق اور فوری اصلاحات کا عمل بھی شروع کرے۔





