واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی اطلاعات کے مطابق بھارت اب روس سے تیل کی خریداری نہیں کر رہا، جو اگر درست ثابت ہو تو ایک مثبت اور خوش آئند پیش رفت ہو سکتی ہے۔
ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا میں یقین سے تو نہیں کہہ سکتا، لیکن میری سمجھ کے مطابق بھارت نے روسی تیل لینا بند کر دیا ہے۔ اگر یہ سچ ہے تو یہ ایک اچھا قدم ہوگا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین پر روسی حملے کے بعد امریکہ عالمی سطح پر روس پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے لیے تیل و گیس کی تجارت پر سخت نظر رکھے ہوئے ہے۔
امریکی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان بھارت اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں ایک نئے رخ کی نشاندہی کر رہا ہے، خاص طور پر توانائی کے شعبے میں پالیسی ہم آہنگی کے تناظر میں۔
بھارت جو دنیا کے سب سے بڑے توانائی درآمد کنندگان میں شامل ہے، حالیہ برسوں میں روسی تیل کا بڑا خریدار رہا ہے۔ اگر یہ خبر درست ثابت ہوتی ہے تو اسے امریکہ کی سفارتی کوششوں کی بڑی کامیابی تصور کیا جا سکتا ہے۔





