حالیہ رپورٹ نے چیٹ جی پی ٹی استعمال کرنے والے لاکھوں صارفین کو چونکا دیا ہے جس میں انکشاف ہوا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی پر کی جانے والی کئی ذاتی اور حساس نوعیت کی گفتگوئیں گوگل سرچ میں ظاہر ہو رہی ہیں۔
یہ مسئلہ “شیئر” فیچر سے جڑا ہے جس کے ذریعے صارفین اپنی چیٹ کا پبلک لنک بنا کر دوسروں کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔
بہت سے صارفین کو علم ہی نہیں تھا کہ یہ لنکس گوگل اور دیگر سرچ انجنز میں انڈیکس ہو سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایسی گفتگوئیں جن میں لوگوں نے ذہنی دباؤ، خاندانی تنازعات، دفتر کے مسائل یا حتیٰ کہ اپنا نام، ای میل اور مقام تک لکھا وہ اب عام طور پر گوگل سرچ میں دیکھی جا سکتی ہیں۔
ایک سادہ سی سرچ (site:chatgpt.com/share) کے ذریعے ہزاروں چیٹس سامنے آ رہی ہیں۔
اوپن اے آئی نے اس صورتحال پر ایکشن لینا شروع کر دیا ہے اور گوگل و دیگر سرچ انجنز سے رابطہ کر کے ان لنکس کو ڈی انڈیکس کرنے کی کوشش کر رہا ہےمگر کمپنی نے اعتراف کیا ہے کہ گوگل کی کیشڈ کاپیز کچھ وقت تک باقی رہ سکتی ہیں۔





