وزارتِ خزانہ نے مالی سال 2024-25 کے دوران وفاقی حکومت کی آمدن اور اخراجات کی تفصیلات جاری کر دی ہیں، جس کے مطابق حکومت کی مالی پوزیشن شدید دباؤ کا شکار رہی۔
رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کی خالص آمدن 9946 ارب روپے رہی جبکہ مجموعی اخراجات 17 ہزار 36 ارب روپے سے تجاوز کر گئے، جس کے نتیجے میں 7090 ارب روپے کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا۔
سود، دفاع اور سبسڈیز پر سب سے زیادہ اخراجات
رپورٹ کے مطابق قرضوں پر سود کی ادائیگی وفاقی حکومت کے اخراجات میں سب سے بڑی مد رہی، جس پر 8847 ارب روپے خرچ کیے گئے۔
دفاعی بجٹ: 2193 ارب روپے
سبسڈیز: 1297 ارب روپے
پنشن: 910 ارب روپے
سول انتظامی امور: 891 ارب روپے
وفاقی ترقیاتی منصوبے: 1049 ارب روپے (گزشتہ سال کے مقابلے میں 43 فیصد زیادہ)
ایف بی آر ٹیکس ہدف حاصل نہ کر سکا
نجی ٹی وی چینل (سما نیوز)کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) 12970 ارب روپے کے سالانہ ہدف کے مقابلے میں 11744 ارب روپے کا ٹیکس جمع کر سکا، یعنی 1226 ارب روپے کی کمی کا سامنا رہا۔ اسی طرح تاجر دوست اسکیم سے 50 ارب روپے کی متوقع وصولی بھی ممکن نہ ہو سکی۔
صوبوں کی مالی کارکردگی
رپورٹ کے مطابق چاروں صوبوں نے مجموعی طور پر 921 ارب روپے کی بچت کی، جو مقررہ 1200 ارب روپے کے ہدف سے کم رہی۔ صوبوں کی انفرادی کارکردگی درج ذیل رہی:
پنجاب: 348 ارب روپے سرپلس
سندھ: 283 ارب روپے
خیبرپختونخوا: 176 ارب روپے
بلوچستان: 114 ارب روپے
پرائمری بجٹ میں بہتری
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے 2.4 کھرب روپے کا پرائمری بجٹ سرپلس ہدف کامیابی سے حاصل کیا، جب کہ جولائی تا جون کے دوران 2719 ارب روپے سے زائد کا پرائمری سرپلس ریکارڈ کیا گیا۔ یہ ہدف بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے تحت ایک اہم پیش رفت ہے۔
قابل تقسیم محاصل میں صوبوں کو حصہ
وفاقی حکومت نے 6854 ارب روپے صوبوں کو قابل تقسیم محاصل (NFC ایوارڈ) کے تحت منتقل کیے، جو آئینی تقاضے کے مطابق ان کے مالی حقوق کا حصہ ہیں۔





