اوپن اے آئی نے جمعرات کو جدید ترین مصنوعی ذہانت کا ماڈل GPT-5 متعارف کرا دیا ہے، جو اب تک کا سب سے طاقتور AI ماڈل قرار دیا جا رہا ہے۔
کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ GPT-5 تمام صارفین کے لیے دستیاب ہو گا، تاہم مفت صارفین کے لیے یہ محدود وقت کے لیے فراہم کیا جائے گا۔
اوپن اے آئی کے مطابق، GPT-5 نہ صرف پہلے سے زیادہ تیز اور ذہین ہے بلکہ خاص طور پر تحریر، کوڈنگ اور صحت کے شعبوں میں نمایاں مہارت رکھتا ہے۔
سی ای او سیم آلٹ مین نے صحافیوں کو بتایا کہ GPT-5 کے بعد دوبارہ GPT-4 کا استعمال ایک مشکل تجربہ تھا، جو نئی ٹیکنالوجی کی اعلیٰ کارکردگی کا مظہر ہے۔
کمپنی نے یہ بھی بتایا کہ GPT-5 میں “ہیلوسینیشن ریٹ” یعنی غلط جوابات دینے کی شرح کم ہو گئی ہے، اور اس ماڈل کو تیار کرنے کے لیے 5000 گھنٹے کی سیفٹی ٹیسٹنگ کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ GPT-5 خطرناک یا حساس سوالات کے جواب دینے سے انکار کرنے کے بجائے محفوظ اور ذمہ دارانہ جوابات فراہم کرے گا، تاکہ صارفین کو نقصان نہ پہنچے۔
یہ نیا ماڈل مصنوعی ذہانت کے میدان میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف ٹیکنالوجی بلکہ مختلف شعبوں میں بھی انقلاب آنے کی توقع ہے۔





