سوات(شہزاد نوید)سوات میں زرعی یونیورسٹی سوات کے زیرِ اہتمام کانجو ٹاؤن شپ میں “موسمیاتی تبدیلی اور پہاڑی علاقوں کی زراعت” کے موضوع پر پہلی تین روزہ بین الا قوامی کانفرنس اختتام پذیر ہوگئی ۔
اس اہم کانفرنس میں نہ صرف پاکستان بلکہ آسٹریلیا، چین ،افغانستان اور دیگر ممالک سے زرعی ماہرین، محققین، جامعات کے اساتذہ، طلبہ، حکومتی و غیر سرکاری اداروں کے نمائندگان اور کسانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
سیمینار کے دوران ماہرین نے موسمیاتی تبدیلی کے پاکستان کی زراعت پر بڑھتے ہوئے اثرات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
ماہرین نے انکشاف کیا کہ پاکستان دنیا کے ان 10 ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر خیبرپختونخوا کے پہاڑی علاقےسوات، دیر، چترال اور شانگلہ جہاں زراعت کا انحصار بارانی پانی، محدود زمین اور روایتی طریقہ کاشت پر ہے، شدید خطرات کی زد میں ہیں۔
ماہرین نے بتایا کہ ملک کی 65 فیصد زمین زرعی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہے، لیکن بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، غیر متوقع بارشوں، خشک سالی، سیلاب اور زمین کی زرخیزی میں کمی جیسے چیلنجز کسانوں کو درپیش ہیں۔ خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں زراعت کو درپیش موسمیاتی چیلنجز دیگر میدانی علاقوں سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور خطرناک ہیں۔
زرعی یونیورسٹی سوات کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر داؤد جان نے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ یونیورسٹی نے پہاڑی زراعت کے فروغ اور تحقیق کے لیے ایک خصوصی شعبہ قائم کیا ہے جو خاص طور پر موسمیاتی تبدیلی، ماحول دوست فصلوں اور جدید تکنیکوں پر تحقیق کر رہا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ اس سیمینار کا مقصد ملک بھر کے ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا، تجربات اور تحقیقی مقالوں کا تبادلہ کرنا اور پالیسی ساز اداروں کو پہاڑی علاقوں کے مخصوص زرعی مسائل سے آگاہ کرنا تھا۔
شرکاء نے مطالبہ کیا کہ حکومت پہاڑی علاقوں کی زراعت کے تحفظ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے، مقامی کسانوں کو تربیت دی جائے، فصلوں کی نئی اقسام متعارف کروائی جائیں اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مزاحمت رکھنے والے طریقے اپنائے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں : لنڈی کوتل اسپتال کی بجلی بند کرنے کی دھمکی، ٹیسکو چیف کی ہٹ دھرمی ناقابل قبول،عدنان قادری
سیمینار کے آخر میں شرکاء کو اسناد دی گئیں اور مشترکہ طور پر ایک اعلامیہ بھی جاری کیا گیا، جس میں تجویز دی گئی کہ پہاڑی علاقوں میں “کلائمیٹ ریزیلینٹ ایگریکلچر” کو فروغ دے کر پائیدار زرعی ترقی کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔





