وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان سیاسی کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کی فضا ہموار ہونے لگی ہے۔ بدھ کے روز اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے دفتر میں ہونے والی اہم ملاقات میں دونوں فریقین نے مذاکرات کے امکان پر تبادلہ خیال کیا، جب کہ اسپیکر نے پی ٹی آئی کے رکن شیخ وقاص اکرم کے خلاف تادیبی کارروائی کو جذبۂ خیرسگالی کے تحت موخر کر دیا۔
نجی ٹی وی چینل (جیو نیوز)کے مطابق ملاقات میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور اسپیکر ایاز صادق نے پی ٹی آئی وفد کو سہولت دیتے ہوئے وقاص اکرم کی مسلسل 40 روزہ غیر حاضری پر سزا سے متعلق قرارداد کو مؤخر رکھنے کا فیصلہ کیا۔اس اقدام کو سیاسی درجہ حرارت کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
ملاقات کے دوران اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو پارلیمانی عمل میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ وزیر قانون اور وزیر پارلیمانی امور نے بھی مذاکراتی عمل کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی استحکام تمام فریقین کے مفاد میں ہے۔پی ٹی آئی وفد نے اس معاملے پر پارلیمانی پارٹی اور اعلیٰ قیادت سے مشاورت کے بعد جواب دینے کی یقین دہانی کرائی۔
اس موقع پر پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید نوید قمر نے اپوزیشن بنچوں پر پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور سابق اسپیکر اسد قیصر سے ملاقات کی اور مشورہ دیا کہ پی ٹی آئی کو سیاسی راستہ اختیار کرنا چاہیے تاکہ پیپلز پارٹی ان کی ممکنہ بحالی میں کردار ادا کر سکے۔
باخبر ذرائع کے مطابق اگرچہ پی ٹی آئی کے پارلیمانی اجلاس میں اکثریت نے مذاکرات کی حمایت کی، تاہم حتمی فیصلہ پارٹی کے بانی عمران خان کی منظوری سے مشروط ہوگا، جو اس وقت جیل میں ہیں اور ماضی میں صرف اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت پر اصرار کرتے رہے ہیں۔ذرائع نے دعویٰ کیا کہ حکومت اور اتحادی جماعتیں، خصوصاً مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی، پسِ پردہ پی ٹی آئی رہنماؤں کو یہ پیغام دے چکی ہیں کہ وہ سیاسی بحالی کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ پی ٹی آئی باضابطہ مذاکرات کا راستہ اپنائے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں پی ٹی آئی نے متعدد مواقع پر مذاکرات کے دروازے خود بند کیے، جس کی ایک بڑی وجہ عمران خان کا اسٹیبلشمنٹ پر انحصار تھا۔تاہم موجودہ صورتِ حال میں جب معیشت اور سیاست دونوں بحرانی کیفیت سے گزر رہے ہیں، مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں جو ملک کو آگے لے جا سکتے ہیں۔
بدھ کے دن ہونے والی ملاقات کو سیاسی حلقے مثبت پیش رفت قرار دے رہے ہیں، لیکن سب کی نظریں اس بات پر جمی ہیں کہ کیا عمران خان کی منظوری کے بغیر یہ عمل آگے بڑھ پائے گا؟اب دیکھنا یہ ہے کہ پی ٹی آئی آنے والے دنوں میں مفاہمت کی سیاست کو ترجیح دیتی ہے یا ایک بار پھر تصادم کی راہ اختیار کرتی ہے۔





