خیبرپختونخوا،آزاد کشمیر اورگلگت بلتستان میں بارشوں اورفلیش فلڈ سے اموات کی تعداد 390 ہوگئی

خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں شدید بارشوں، کلاؤڈ برسٹ اور فلیش فلڈز کے باعث جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 390 ہو گئی ہے، جب کہ سینکڑوں زخمی اور درجنوں مکانات، پل، سڑکیں اور پاور اسٹیشن تباہ ہو چکے ہیں۔ متعلقہ اداروں کی جانب سے ریلیف اور ریسکیو سرگرمیاں جاری ہیں، تاہم متاثرہ علاقوں میں خطرہ بدستور موجود ہے۔

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) کے مطابق خیبرپختونخوا میں اب تک 357 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں 41 خواتین اور 29 بچے شامل ہیں۔ مختلف حادثات میں 178 افراد زخمی ہوئے، جب کہ 602 مکانات کو نقصان پہنچا، جن میں سے 182 مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔

اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (SDMA) آزاد کشمیر کے مطابق حالیہ بارشوں، سیلاب اور کلاؤڈ برسٹ کے باعث 19 افراد جان کی بازی ہار گئے، جن میں 8 مرد، 6 خواتین اور 5 بچے شامل ہیں، جب کہ 16 افراد زخمی بھی ہوئے۔سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے 404 رہائشی مکانات متاثر ہوئے، جن میں 87 مکانات مکمل طور پر تباہ اور باقی جزوی طور پر متاثر ہوئے۔ اس کے علاوہ 27 دکانیں، 13 پن چکیاں، 20 پل اور 24 کلومیٹر سڑکیں بھی تباہ ہوئیں۔ 26 سمال ہائیڈرو پاور اسٹیشن سیلاب کی نذر ہو چکے ہیں۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق سیلاب سے 14 افراد جاں بحق اور 3 تاحال لاپتہ ہیں۔ علاقے میں شاہراہوں کی بحالی اور متاثرہ خاندانوں کو ریلیف فراہم کرنے کا کام جاری ہے۔

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ خیبرپختونخوا اور پنجاب میں 21 اگست تک شدید بارشوں کا امکان ہے، جن کی شدت معمول سے 50 فیصد زیادہ ہو سکتی ہے۔ شمالی علاقہ جات، پوٹھوہار ریجن، راولپنڈی، مری، جہلم، چکوال اور اٹک میں کلاؤڈ برسٹ کے خطرات موجود ہیں، جب کہ بلوچستان میں بھی سیلابی صورت حال پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

ریسکیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ شدید بارشوں کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں، ندی نالوں کے قریب نہ جائیں اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔

Scroll to Top