اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب نے بھارتی مداخلت کو علاقائی امن کے لیے خطرہ قرار دے دیا

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا ہے کہ دہشت گردوں کی فہرست میں شامل تمام افراد مسلمان ہیں جبکہ غیر مسلم دہشت گرد اکثر بغیر احتساب کے بچ نکلتے ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے فہرست میں اصلاحات کا مطالبہ کیا۔

عاصم افتخار نے آن لائن دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات پر بھی خبردار کیا اور کہا کہ دہشت گرد گروہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے کمزور طبقات خصوصاً نوجوانوں کو شدت پسندی کی جانب راغب کر رہے ہیں۔ انہوں نے انسداد دہشت گردی کے لیے اتفاق رائے اور بین الاقوامی قانون کے تحت کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔

مندوب پاکستان نے عالمی برادری کو بتایا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی اور مجید بریگیڈ کے درمیان تعاون علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی افغان سرزمین سے سرگرم ہے اور اقوام متحدہ کی سب سے بڑی دہشت گرد تنظیم ہے، جس کی پاکستان کی قومی سلامتی پر براہِ راست منفی اثرات ہیں۔

عاصم افتخار نے افغان عبوری حکومت کی داعش خراسان کے خلاف کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد گروہ اب بھی افغانستان کے غیر حکومتی علاقوں میں محفوظ پناہ گاہیں رکھتے ہیں۔ انہوں نے داعش کو عالمی سطح پر ایک بڑا خطرہ قرار دیا۔

پاکستانی مندوب نے بھارت پر الزام عائد کیا کہ وہ دہشت گردی کو پاکستان میں سپورٹ کر رہا ہے اور 2025 کے مئی میں بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ سے 54 شہری شہید ہوئے جن میں بچے اور خواتین بھی شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں : عالمی شہرت یافتہ جج فرینک کیپریو، زندگی کی عدالت میں شکست کھا گئے

انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کو ریاستی دہشت گردی پر خاموش نہیں رہنا چاہیے کیونکہ اس سے عالمی امن کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔

عاصم افتخار نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جامع حکمت عملی اپنانے، جبر اور ریاستی دہشت گردی کے خاتمے، اور کشمیریوں اور فلسطینیوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور عوام کی جائز جدوجہد میں فرق کرنا ضروری ہے۔

مندوب پاکستان نے زور دیا کہ دہشت گردی کو شکست صرف عالمی تعاون اور انصاف کے ساتھ ممکن ہے، اور اسلام و مسلمانوں کے خلاف منفی تاثر ختم کرنا بھی اس جنگ کا اہم حصہ ہے۔

Scroll to Top