خیبر پختونخوا کے محکمہ سیاحت، ثقافت و آثار قدیمہ نے کیلاش ویلیز ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو ہدایت کی ہے کہ کیلاش برادری سے کسی بھی قسم کے نئے ٹیکس یا لیوی کی وصولی بند کی جائے۔
یہ فیصلہ کیلاش کمیونٹی کے مسلسل مطالبات اور تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
کیلاش برادری نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ ان پر لگائے گئے نئے ٹیکسز ان کے روزگار اور کاروبار کو نقصان پہنچا رہے ہیں، اور ان فیصلوں میں عوامی مشاورت شامل نہیں کی گئی تھی۔
اس کے بعد محکمہ نے متعلقہ اتھارٹی کو ہدایت دی کہ وہ کسی بھی نئے واجبات کی وصولی نہ کرے۔
کیلاش ویلیز ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قوانین میں ترمیم کے لیے مسودہ صوبائی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب نے بھارتی مداخلت کو علاقائی امن کے لیے خطرہ قرار دے دیا
ترمیم کی منظوری تک نئے ٹیکسز کی وصولی مؤخر رہے گی۔ اس حوالے سے کیلاش برادری کے بزرگوں اور نمائندوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا مطالبہ تسلیم کر کے ان کی فلاح و بہبود کا خیال رکھا گیا ہے۔
محکمہ آثار قدیمہ نے بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ کیلاش ویلیز کی ثقافت اور معاشی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ صوبائی کابینہ کے فیصلے کے بعد آئندہ حکمت عملی کا اعلان کیا جائے گا۔





