حکومت سے بات چیت کا بڑا موقع، مگر پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات بھی سر اٹھانے لگے

اسلام آباد(پختون ڈیجیٹل )سابق صوبائی وزیر اجمل وزیر نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام اور خیبرپختونخوا کی ممکنہ تقسیم پر سوالات اٹھائے ہیں۔

انہوں نے پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں کچھ حلقے نئے صوبے بنانے کے خواہاں ہیں، مگر یہ معاملہ سیاسی پیچیدگیوں کا حامل ہے اور آئینی اصلاحات کی ضرورت ہوگی۔

اجمل وزیر نے پی ٹی آئی کے اندر محمود خان اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر کے طور پر نامزدگی پر شدید اختلافات کا بھی ذکر کیا۔

ان کے بقول پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی میں اچکزئی کی نامزدگی کی مخالفت موجود ہے اور سفارشات عمران خان تک پہنچائی جا رہی ہیں۔

تاہم موجودہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے وہ واحد شخصیت ہیں جو مولانا فضل الرحمان سے بات چیت کر سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ آٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد وفاقی محصولات کا تقریباً 60 فیصد حصہ صوبوں کو منتقل ہوتا ہے، لیکن رواں سال نومبر یا دسمبر میں متوقع نئی ترمیم کے تحت صوبوں کو ملنے والے محصولات میں 15 فیصد تک کٹوتی کی جا سکتی ہے، جس سے صوبوں کے مالی وسائل متاثر ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں : صدر مملکت آصف علی زرداری نے 11واں قومی مالیاتی کمیشن تشکیل دے دیا

اجمل وزیر نے فاٹا کے مستقبل پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ اس کا فیصلہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ آیا فاٹا خیبرپختونخوا کا حصہ رہے گا یا گلگت بلتستان کی طرح خودمختار حیثیت دی جائے گی۔

اگر فاٹا کو خودمختاری دی گئی تو یہ براہ راست وفاق کے ماتحت ہوگا، جس سے ملک کی سیاسی اور انتظامی تقسیم میں اہم تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔

Scroll to Top