پشاور: اسلامی جمعیت طلبہ صوبہ خیبر پختونخوا کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ میں ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کی فیس کے خلاف ایک اہم رٹ پٹیشن دائر کی گئی۔
ایڈوکیٹ محمد ریاض، محمد ارشد الحسن اور ایڈوکیٹ شبیر خان کی وساطت سےدائررٹ پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملک بھر کی مختلف یونیورسٹیوں اور کالجوں میں فیسوں کا تناسب اس قدر زیادہ نہیں جتنا کہ ایم ڈی کیٹ کے ذریعے غریب طلبہ سے وصول کیا جا رہا ہے۔
موجودہ صورتحال میں ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کے لیے فی طالب علم 9 ہزار روپے فیس چارج کی جا رہی ہے، جو کہ معاشی طور پر کمزور اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے ساتھ ایک واضح ناانصافی ہے۔
پٹیشن میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اس فیس کو فوری طور پر کم کیا جائے تاکہ تمام طلبہ کو مساوی تعلیمی مواقع میسر آئیں۔
مزید برآں، پٹیشن میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے طلبہ کو ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کی فیس سے مکمل طور پر مستثنیٰ قرار دیا جائے، کیونکہ یہ طلبہ پہلے ہی شدید مالی اور جانی نقصانات کا شکار ہو چکے ہیں۔
اسلامی جمعیت طلبہ نے اس اقدام کو تعلیمی انصاف اور طلبہ کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے اور اُمید ظاہر کی ہے کہ عدالت طلبہ کے اس بنیادی مسئلے پر فوری اور مثبت نوٹس لے گی۔





