پشاور اور خیبر میں تیز بارشوں کی وجہ سے اربن فلڈنگ، امدادی سرگرمیاں جاری

پشاور: حالیہ تیز بارشوں کے باعث ضلع پشاور اور خیبر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

وزیر اعلی خیبر پختونخوا، علی امین گنڈاپور کی خصوصی ہدایات پر متعلقہ ضلعی انتظامیہ، پی ڈی ایم اے اور ریسکیو کے اعلی حکام متاثرہ علاقوں میں موجود ہیں اور ریسکیو و ریلیف آپریشنز کی نگرانی کر رہے ہیں۔

ریسکیو کی ڈیزاسٹر، میڈیکل اور دیگر ٹیمیں ضروری مشینری اور آلات کے ساتھ صبح سے متاثرہ علاقوں میں سرگرم ہیں۔ ریسکیو ٹیموں نے اب تک مختلف علاقوں سے 256 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے، اور ڈی واٹرنگ مشینوں کی مدد سے متاثرہ گھروں اور علاقوں سے پانی نکالنے کا عمل جاری ہے۔

پشاور کے مختلف علاقوں جیسے شاہین کالونی، صفیہ ٹاؤن، ورسک روڈ، ریگی بالا، بڈھنی پل اور دیگر مقامات پر ڈی واٹرنگ آپریشنز جاری ہیں۔ بڈھنی نالہ اور دارمنگی میں سیلابی صورتحال کی وجہ سے نشیبی علاقوں کی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

عوام کو ندی نالوں سے دور رکھنے کے لیے مسجدوں میں اعلانات کیے جا رہے ہیں، جبکہ ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کی بروقت کارروائی کی بدولت ابھی تک کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ تاہم، پشاور میں ایک مکان کی چھت گرنے سے ایک بچہ جاں بحق ہوا، جبکہ تین زخمیوں کو بروقت ہسپتال منتقل کیا گیا۔

وزیر اعلی علی امین گنڈاپور نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ ریسکیو اور ریلیف آپریشنز مکمل ہونے تک متاثرہ علاقوں میں موجود رہیں اور امدادی سرگرمیوں کی نگرانی جاری رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی اشیاء کی بروقت ترسیل کو یقینی بنایا جائے، اور متاثرہ خاندانوں کے لیے کھانے پینے اور عارضی رہائش کا بندوبست کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں : غیر قانونی پیٹرولیم پمپس کے خلاف گھیرا تنگ ، صدر نےبل پر دستخط کردیئے

وزیر اعلی نے کہا کہ ان علاقوں میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مشینری، کشتیوں اور دیگر آلات کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔

Scroll to Top