وفاقی حکومت کی بڑی کامیابی: 2 ہزار 600 ارب روپے کے قرضے مقررہ وقت سے پہلے ادا

وفاقی حکومت نے مالیاتی نظم و ضبط کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے 2600 ارب روپے سے زائد کے قرضے مقررہ وقت سے قبل ادا کر دیے۔ اس پیش رفت کو معاشی ماہرین حکومت کی دور اندیش مالیاتی حکمت عملی کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔

اس حوالے سے مشیر خزانہ خرم شہزاد نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی حکومت نے صرف 59 دنوں کے اندر اسٹیٹ بینک کو 1633 ارب روپے واپس کیے، جب کہ مالی سال 2025 کی پہلی ششماہی میں کمرشل مارکیٹ سے لیے گئے ایک ہزار ارب روپے کے قرضے بھی قبل از وقت ادا کیے جا چکے ہیں۔

ادائیگی کی تفصیلات:،
30 جون 2025: وزارت خزانہ نے اسٹیٹ بینک کو 500 ارب روپے کا قرضہ قبل از وقت واپس کیا۔29 اگست 2025: مزید 1133 ارب روپے کی ادائیگی کی گئی، یوں مجموعی طور پر 1633 ارب روپے اسٹیٹ بینک کو واپس کیے جا چکے ہیں۔کمرشل بینکوں سے لیا گیا 1000 ارب روپے کا قرضہ بھی مالی سال 2025 کی پہلی ششماہی میں ادا کر دیا گیا۔

خرم شہزاد نے کہا کہ یہ صرف قرض کی ادائیگی نہیں بلکہ ایک نئی مالیاتی سوچ کا مظہر ہے۔ ہم نے اندھا دھند قرض لینے کے پرانے چکر کو توڑا ہے اور مالیاتی نظم و ضبط کو ترجیح دی ہے، جو پاکستان کی مالی ساکھ کو بحال کرنے، معیشت کو مستحکم کرنے اور پائیدار مستقبل کی بنیاد رکھنے کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔‘‘

معاشی ماہرین کے مطابق حکومت کا یہ اقدام نہ صرف پاکستان کے مالیاتی نظام پر اعتماد کی بحالی میں مدد دے گا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ملک کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر بنانے کا باعث بن سکتا ہے۔

Scroll to Top