جامعہ پشاور میں’’مثالحت کاری اور تنازعات کے پرامن حل‘‘پر دو ہفتوں پر مشتمل تربیتی ورکشاپ کا آغاز

جامعہ پشاور میں’’مثالحت کاری اور تنازعات کے پرامن حل‘‘پر دو ہفتوں پر مشتمل تربیتی ورکشاپ کا آغاز

ادارہ برائے مطالعہ امن و تنازعات، جامعہ پشاور میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کے تعاون سے’’مثالحت کاری، گفتگو کا ہنر اور تنازعات کا پرامن حل‘‘ کے عنوان سے دو ہفتوں پر محیط تربیتی ورکشاپ کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس ورکشاپ میں گوادر، پنجاب، ضلع خیبر سمیت ملک بھر سے سماجی کارکنان شرکت کر رہے ہیں، جنہیں مقامی و بین الاقوامی ماہرین کی زیر نگرانی عملی تربیت دی جائے گی۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ، جناب جسٹس سید محمد عتیق شاہ نے افتتاحی خطاب میں عدلیہ اور معاشرتی نظام کے باہمی تعاون کو اجاگر کرتے ہوئے زور دیا کہ امن کے قیام میں مقامی ثقافتی روایات اور ثالثی کے نظام کو مؤثر طور پر استعمال میں لایا جائے۔ انہوں نے ادارہ برائے مطالعہ امن و تنازعات (IPCS) کی بدلتے ہوئے ملکی و عالمی حالات کے تناظر میں اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔

وائس چانسلر جامعہ پشاور، پروفیسر ڈاکٹر محمد جوہر علی نے UNDP کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس اشتراک کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے تربیتی پروگرام نہ صرف علمی سطح پر بلکہ معاشرتی سطح پر بھی مثبت تبدیلیوں کا باعث بنتے ہیں۔

اس موقع پر اقوامِ متحدہ کے نمائندے جناب ملک کامران نے جامعہ پشاور کی استعدادِ کار میں اضافے کے لیے UNDP کی جاری معاونت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن کے لیے نوجوانوں اور سماجی کارکنوں کو عملی تربیت فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انسٹیٹیوٹ آف پیس اینڈ کانفلکٹ اسٹڈیز کے ڈائریکٹر، پروفیسر جمیل چترالی نے ملک بھر سے شرکاء کی شرکت پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تربیتی سلسلہ ملک میں امن کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے۔ ان کے مطابق یہ پروگرام ایک نئی شروعات ہے جو اعلیٰ تربیت یافتہ ماہرین کی رہنمائی اور “رفقاء امن” کے بھرپور تعاون سے کامیابی سے ہمکنار ہوگا۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء نے مہمانِ خصوصی جسٹس عتیق شاہ کے ساتھ ایک یادگاری گروپ فوٹو بنوایا۔

Scroll to Top