اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں شبلی فراز اور کنول شوذب کی جانب سے دائر توہین عدالت کی درخواستیں خارج کر دیں، جو کہ ان کے نام سفری پابندی کی فہرست (ای سی ایل) سے نہ نکالنے کے خلاف دائر کی گئی تھیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت میں کیس دو مرتبہ کال ہوا، تاہم شبلی فراز اور کنول شوذب یا ان کے وکیل کی جانب سے کوئی بھی پیش نہ ہوا، جس پر عدالت نے عدم پیروی کی بنیاد پر دونوں درخواستیں خارج کر دیں۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ عدالت کی ہدایت کے باوجود ان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) سے خارج نہیں کیے گئے، جس پر انہوں نے توہین عدالت کی درخواستیں دائر کر رکھی تھیں۔
درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے، لہٰذا متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی کی جائے۔
تاہم سماعت کے دوران نہ صرف درخواست گزار پیش نہ ہوئے بلکہ ان کی جانب سے کوئی نمائندہ بھی عدالت میں موجود نہ تھا، جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے درخواستوں کو خارج کر دیا۔





