امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک نیا مجوزہ منصوبہ حماس کو پیش کر دیا ہے جس کا مقصد فریقین کو ایک طویل جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کی بنیاد پر مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے یہ منصوبہ اپنے قریبی ساتھی اور مشیر سٹیو وٹکاف کے ذریعے حماس کو پیش کیا، مجوزہ پلان میں تمام 48 اسرائیلی قیدیوں اور ہزاروں فلسطینی قیدیوں کی رہائی شامل ہے، اس کے بدلے میں اسرائیلی افواج غزہ پر حملے روک کر علاقے سے پیچھے ہٹ جائیں گی۔
منصوبے کے تحت جنگ بندی کے دوران فریقین کے درمیان براہِ راست مذاکرات ہوں گے، جن کی قیادت خود سابق صدر ٹرمپ کریں گے، مذاکرات جاری رہنے تک جنگ بندی برقرار رکھی جائے گی، تاکہ امن کی فضا قائم کی جا سکے۔
سیاسی مبصرین اس منصوبے کو ٹرمپ کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں فعال سفارتی کردار کی ایک نئی کوشش قرار دے رہے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا کی موجودہ پالیسیوں پر خطے میں تنقید کی جا رہی ہے۔
یہ بھ پڑھیں: اسرائیل غزہ میں آبادی کو صفحہ ہستی سے مٹانے پر تل گیا
اسرائیل کی جانب سے اس مجوزہ پلان پر باضابطہ ردعمل سامنے آگیا ہے، اسرائیلی وزیراعظم آفس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ٹرمپ پلان پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔





