فنڈز کی کمی نے طلبہ کو مفت کتب کی فراہمی کے عمل کو خطرے میں ڈال دیا

پشاور میں محکمہ تعلیم کی جانب سے فنڈز کی فراہمی میں تاخیر کے باعث مفت تعلیمی کتب کی تقسیم شدید خطرے میں پڑ گئی ہے۔

جس سے صوبے کے لاکھوں طلبہ کا تعلیمی مستقبل متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

محکمہ تعلیم نے 2018 سے 2024 تک صوبائی ٹیکسٹ بک بورڈ کو واجبات ادا نہیں کیے، جس کی رقم 13 ارب 21 کروڑ 88 لاکھ 51 ہزار 129 روپے تک پہنچ چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : چار ڈیم بنانا بہتر حل ہے، کالاباغ ڈیم کو چھوڑ دیں، گورنر خیبرپختونخوا

اس سال بھی مفت کتب کی فراہمی کے لیے ضروری فنڈز جاری نہیں کیے گئے، جس کے باعث طلبہ کو تعلیمی وسائل کی فراہمی متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔

ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اگر اس مسئلے کو فوری حل نہ کیا گیا تو صوبے کے لاکھوں طلبہ تعلیمی کتب سے محروم رہ جائیں گے، جو ان کی تعلیمی کارکردگی پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

Scroll to Top