عوام بدامنی اور مہنگائی سے پریشان، حکومت کو صرف جلسوں کی فکر ہے، سردار حسین بابک

پشاور: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سینئر رہنما سردار حسین بابک نے خیبرپختونخوا میں بڑھتی بدامنی، آٹے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے اور صوبائی حکومت کی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی خراب صورت حال اور عوامی مشکلات کی ذمہ دار پی ٹی آئی کی 13 سالہ حکومت ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت این ایف سی ایوارڈ میں مزید بخل نہ برتے اور اسے بلا تاخیر ہر پانچ سال بعد باقاعدگی سے جاری کرے،جبکہ خیبرپختونخوا کو اس کے تمام واجبات فوری ادا کیے جائیں۔

سردار حسین بابک کا کہنا تھا کہ صوبے میں بدامنی کا واحد حل یہ ہے کہ تمام اختیارات پولیس کو دیے جائیں، کیونکہ اگر موجودہ حالات میں پولیس کو مضبوط نہیں کیا گیا تو دہشت گردی اور لاقانونیت پر قابو پانا ممکن نہیں رہے گا۔

پی ٹی آئی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے کی تباہ حالی، بدامنی اور گورننس کی ناکامی کے بعد یہ کہنا کہ یہاں ان کی رٹ قائم ہے، ایک دھوکہ ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ جب عوام امن کے لیے احتجاج کرتے ہیں، تو انہیں گرفتار کرکے دبایا جاتا ہے، جو جمہوری رویہ نہیں۔

یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی میں گروہی تقسیم، خیبرپختونخوا اور مرکز میں مختلف دھڑے سرگرم

آٹے کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر ردعمل دیتے ہوئے اے این پی رہنما نے کہا کہ عوام پہلے ہی مہنگائی سے پس رہے ہیں اور اب آٹے جیسی بنیادی ضرورت بھی ان کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت کہاں ہے؟ اور اس پر کوئی واضح موقف کیوں نہیں آ رہا؟

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ کی جانب سے صرف جلسوں کے اعلانات ہو رہے ہیں، جبکہ صوبے کے اصل مسائل جیسے مہنگائی، بدامنی اور این ایف سی جیسے اہم معاملات پر مکمل خاموشی ہے۔

Scroll to Top