اسلام آباد: سینئر صحافی جمشید خان نے پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی خلفشار، سیاسی رویوں، کرپشن اور سوشل میڈیا حکمتِ عملی پر اہم انکشافات کیے ہیں۔
جمشید خان کے مطابق خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی عملی طور پر مختلف گروپوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ شہرام ترکئی، عاطف خان، اسد قیصر اور تیمور جھگڑا کے الگ الگ گروپس متحرک ہیں، جو پارٹی کے اندر اپنی اپنی سیاسی حیثیت اور اثرورسوخ کے لیے کوشاں ہیں۔
دوسری جانب مرکز میں پختون اور پنجابی گروپس کے درمیان بھی نہ صرف تقسیم موجود ہے بلکہ ان گروپس کے اندر بھی دو دو مزید دھڑے بن چکے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی نے اپنے دورِ حکومت میں سیاسی انتقامی کارروائیاں کیں، جس میں صحافیوں اور بیوروکریٹس کو نشانہ بنایا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ آج بھی پارٹی کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر عمران خان کو اقتدار سے باہر نکالنے کے نعرے سنائی دیتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ عمران خان عدالتوں میں جاری مقدمات کے باعث خود بھی سیاسی طور پر بند گلی میں داخل ہو چکے ہیں۔
جمشید خان نے خیبرپختونخوا میں کرپشن کی سنگین صورتحال پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق جب نوکریوں کے اشتہارات آتے ہیں، لوگ سب سے پہلے یہ معلوم کرتے ہیں کہ قیمت کیا ہے، شرائط نہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پاک فوج کا ایک اور بہادر بیٹا آج وطن پرقربان ہو گیا، وزیردفاع
ان کا کہنا تھا کہ کرپشن اس سطح پر پہنچ چکی ہے جہاں نظامِ میرٹ عملاً ختم ہو چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کو پارلیمانی سیاست کی سمجھ نہیں آئی۔ 2014ء میں استعفے دیے گئے، مگر بعد میں مراد سعید، علی محمد خان اور مسرت احمد زیب سمیت کئی اراکین قومی اسمبلی نے اسپیکر ایاز صادق کو خطوط بھیجے کہ وہ معاشی مسائل کا شکار ہیں، اس لیے تنخواہیں دی جائیں۔





