ایشیا کپ 2025 کے پاک-بھارت ٹاکرے میں جہاں گراؤنڈ میں سنسنی خیز مقابلہ دیکھنے کو ملا، وہیں میچ کے اختتام پر بھارتی کھلاڑیوں کی جانب سے پاکستانی ٹیم سے ہاتھ نہ ملانے کے واقعے نے شائقین اور کرکٹ ماہرین کو حیران کر دیا۔ پاکستان وائٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے اس رویے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
میچ کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مائیک ہیسن نے واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا’’ہماری ٹیم کھیل کے اختتام پر روایتی مصافحے کے لیے تیار تھی، لیکن بدقسمتی سے بھارتی ٹیم کے کھلاڑی پہلے ہی ڈریسنگ روم کی طرف جا رہے تھے۔ یہ کھیل ختم کرنے کا ایک مایوس کن طریقہ تھا۔‘‘
ہم ہاتھ ملانے کے لیے گئے تھے’’مائیک ہیسن کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم نے کھیل کے جذبے اور روایتی کرکٹ اقدار کو برقرار رکھنے کی پوری کوشش کی، لیکن اپوزیشن نے اسے نظر انداز کیا۔
انہوں نے مزید کہا’’ہم اس بات سے مطمئن نہیں تھے کہ ہم کیسے کھیلے، لیکن ہم یقیناً کھیل کے آخر میں ہاتھ ملانے کے لیے تیار تھے۔‘‘ہیڈ کوچ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ پاکستانی کپتان سلمان علی آغا کی میچ کے بعد پریزنٹیشن سے غیر موجودگی بھی اسی ناخوشگوار صورتحال سے جڑی ہوئی تھی۔ ان کے مطابق’’مایوسی کے جذبات غالب تھے۔ ہم روایتی طریقے سے کھیل کو ختم کرنا چاہتے تھے، لیکن ماحول ایسا بن گیا کہ ممکن نہ ہو سکا۔‘‘
میچ کا نتیجہ اور پس منظرواضح رہے کہ ایشیا کپ 2025 کے اس ہائی وولٹیج میچ میں بھارت نے پاکستان کو 7 وکٹوں سے شکست دی۔ تاہم، کھیل کے بعد پیش آئے رویے نے شائقین کی توجہ اسپورٹس مین شپ سے متعلق پہلوؤں کی جانب مبذول کر دی ہے۔
بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو پہلے ہی ٹاس کے وقت پاکستانی کپتان سے ہاتھ ملانے سے گریز کر چکے تھے، اور میچ کے اختتام پر بھی بھارتی کھلاڑیوں نے پاکستانی ٹیم سے ہاتھ نہ ملا کر اس روایت کو توڑا جسے دنیا بھر میں کرکٹ کی روح سمجھا جاتا ہے۔
تجزیہ! کرکٹ صرف کھیل نہیں، رویہ بھی ہےاسپورٹس مین شپ کا فقدان اب صرف ایک ٹیم یا ایک لمحے کا مسئلہ نہیں، بلکہ عالمی سطح پر کھیل کی ساکھ اور مستقبل پر اثر ڈالنے والا معاملہ بن چکا ہے۔ مائیک ہیسن کی باتوں سے صاف ظاہر ہے کہ پاکستانی ٹیم نے پیشہ ورانہ اور مثبت رویے کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی، مگر بھارتی ٹیم کے غیر روایتی رویے نے ایک شاندار میچ کے اختتام کو تلخ بنا دیا۔





