علی امین گنڈا پور ایک بار پھر اپنی ہی قیادت پر برس پڑے، سب کو آئینہ دکھا دیا

راولپنڈی: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے اپنی ہی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندر موجود منافقین اور اندرونی تقسیم پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حالات عمران خان سے ملاقاتوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور نے کہا کہ بانی تحریک انصاف عمران خان کو سیاست میں واپس لانے کے لیے میں نے جتنی محنت کی، شاید کسی نے نہ کی ہو۔ انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ کے بڑے مارچ اور جلسے عمران خان کی قیادت میں کیے گئے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کیا کوئی ریاست کے خلاف جا سکتا ہے؟ عمران خان کئی بار مذاکرات کی پیشکش کر چکے ہیں اور بات چیت صرف ان سے ہوگی جن کے پاس اختیار ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان کی حکومت کو گرایا گیا اور اس میں افغان مہاجرین کا کوئی کردار نہیں تھا، بلکہ وہ افغان مہاجرین کو عزت و احترام کے ساتھ واپس بھیجنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

علی امین گنڈا پور نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مشکلات درپیش ہیں، اور پی ٹی آئی کی حکومت میں دہشت گردی تقریباً ختم ہو گئی تھی، مگر حالیہ واقعات تشویشناک ہیں۔

انہوں نے پارٹی میں موجود منافقین پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اندرونی تقسیم کی وجہ سے عمران خان سے ملاقاتیں روکی جا رہی ہیں، اور کچھ لوگ پارٹی میں اپنا ایجنڈا چلا رہے ہیں جو نقصان دہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں : اسلام آباد میں افغانی سفیر اور اسد قیصر کی ملاقات، اندرونی کہانی منظرِ عام پر آ گئی

علی امین گنڈا پور نے خبردار کیا کہ جھوٹے الزامات اور سیاسی پروپیگنڈا پارٹی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ سے قبل سیاسی دباؤ کی وجہ سے عمران خان کی واضح ہدایات کی ضرورت تھی، مگر پارٹی میں رکاوٹیں حائل ہیں۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق علی امین گنڈا پور اور بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کو آج بھی عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی، جو پارٹی کے اندر کشیدگی کی مزید علامت ہے۔

Scroll to Top