بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان پر انڈوں سے کیا گیا حملہ ایک منصوبہ بند (اسکرپٹڈ) واقعہ تھا، اور حملہ آور خواتین کو پولیس کی جانب سے تحفظ فراہم کیا گیا۔
جوڈیشل کمپلیکس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان کا کہنا تھا کہ دو خواتین نے ان پر انڈا پھینکا، جنہیں پولیس نے حراست میں لینے کا دعویٰ کیا، مگر بعد ازاں خاموشی سے رہا کر دیا گیا۔
علیمہ خان نے کہا’’دو سال سے ہم جیلوں کے چکر لگا رہے ہیں، لیکن اس دوران کبھی کوئی بدتمیزی یا پرتشدد واقعہ پیش نہیں آیا۔ اب چند مخصوص افراد کو ماحول خراب کرنے کے لیے بھیجا جا رہا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ پولیس نے انہیں پیشگی اطلاع دی تھی کہ چار افراد ان سے بدتمیزی کے ارادے سے تعاقب میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا’’کسی کی ماں یا بیٹی پر اگر اس طرح کا حملہ ہو، تو کوئی بھی خاموش نہیں رہ سکتا۔ ہمارا معاشرہ اور دین ایسی حرکتوں کی اجازت نہیں دیتا۔‘‘
علیمہ خان کے مطابق یہ پہلا واقعہ نہیں تھا، بلکہ اسی خاتون نے، جس نے ان پر انڈا پھینکا، ایک روز قبل جیل کے باہر بدتمیزی کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔ انہوں نے کہا’’کل جیل کے باہر ہم پر کسی نے پتھر بھی پھینکے۔ پہلے انڈا، پھر بدتمیزی، اب پتھر مارے گئے، کل کو چھرا بھی مار سکتے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ان کا کام بانی پی ٹی آئی کا پیغام عوام تک پہنچانا ہے، اور وہ یہ کام ہر صورت جاری رکھیں گی۔ تاہم انہوں نے شکوہ کیا کہ واقعے کے باوجود پولیس ان کی ایف آئی آر درج کرنے سے گریز کر رہی ہے۔
آخر میں علیمہ خان نے کہا کہ ان کے وکلاء جی ایچ کیو حملہ کیس کا ٹرائل انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) میں منتقل کرنے کے حکومتی نوٹیفکیشن کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔ ان کا کہنا تھا’’قانون اور انصاف تو یہاں ہے ہی نہیں، یہ صرف عمران خان کی آواز دبانا چاہتے ہیں۔‘‘





