میچ ریفری نے معافی مانگ لی، کرکٹ اور سیاست ساتھ نہیں چل سکتے: چیئرمین پی سی بی

چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی نے کہا ہے کہ 14 ستمبر کو کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی ہوئی، جس پر پی سی بی نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) سے باضابطہ انکوائری کی درخواست کی، میچ ریفری اینڈی پائیکرافٹ نے اپنے رویے پر معذرت کر لی ہے۔

نجم سیٹھی اور رمیز راجہ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ کرکٹ اور سیاست ایک ساتھ نہیں چل سکتے، کھیل کو کھیل ہی رہنے دینا چاہیے،ہم نے پہلے بھی یہی مؤقف اپنایا اور آئندہ بھی سیاست سے بالاتر ہو کر کرکٹ کو فروغ دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر بائیکاٹ کا فیصلہ کرتے تو یہ ایک بڑا قدم ہوتا، جس میں وزیراعظم سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت شامل تھی،ہم نے نجم سیٹھی اور رمیز راجہ سے بھی رابطہ کیا، سب کی حمایت حاصل تھی، لیکن خوشی ہے کہ بات معافی تک پہنچ گئی اور اب توجہ کھیل پر مرکوز ہے۔

محسن نقوی نے عوام سے درخواست کی کہ وہ ٹورنامنٹ کے اختتام تک قومی ٹیم کا ساتھ دیں اور یقین دلایا کہ سلیکشن پینل کارکردگی کا جائزہ لے رہا ہے اگر کہیں خامیاں ہوں گی تو اُنہیں دور کیا جائے گا۔

سابق چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے کہا کہ پی سی بی کا ہمیشہ سے مؤقف رہا ہے کہ کھیل کو سیاست سے دور رکھا جائے۔ جب میں چیئرمین تھا تب بھی ہمارا یہی مؤقف تھا، ہم نے سیاست نہیں کھیلی، انہوں نے کھیلی۔ ہم نے معافی کا مطالبہ کیا اور انہوں نے مان لی، یہ ہماری اخلاقی فتح ہے۔

سابق چیئرمین اور کرکٹ مبصر رمیز راجہ نے کہا کہ صورتحال نازک تھی مگر پاکستان نے مؤقف پر ڈٹ کر اپنی پوزیشن واضح کی۔یہ ہماری کامیابی ہے کہ معاملہ منطقی انجام تک پہنچا۔ ہماری ٹیم کو اب یہ داستان میدان میں کارکردگی کے ذریعے مکمل کرنی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سرکاری گاڑی میں سواریاں بٹھانے کا معاملہ،انکوائری کمیٹی کا فیصلہ سامنے آگیا

انہوں نے اینڈی پائیکرافٹ کی غیر جانبداری پر سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ وہ 90 بار بھارت کے میچز میں ریفری رہ چکے ہیں، یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کا جھکاؤ کس طرف ہے۔ ایسا لگتا ہے ہر بار انہیں ہی تعینات کیا جاتا ہے، جو یکطرفہ رویہ ظاہر کرتا ہے۔

Scroll to Top