وزیراعظم پاکستان کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نومبر میں پاکستان کا اہم دورہ کرنے والے ہیں اور یہ دورہ محض رسمی نہیں بلکہ ایک نئی سٹریٹیجک جہت کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اختیار ولی خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین طے پانے والے حالیہ دفاعی معاہدے نے خطے میں نئی سفارتی لکیریں کھینچ دی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس معاہدے میں پانچ اسلامی ممالک کی شمولیت طے پا چکی ہے جبکہ ایک غیر مسلم ملک بھی اس اتحاد کا حصہ بننے کا خواہاں ہے جو کہ عالمی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی وزن اور اثرورسوخ کا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نہ صرف اپنی سرحدوں کے دفاع میں مضبوط تر ہوا ہے بلکہ مسلم امہ کی اجتماعی قیادت کا باب بھی کھول چکا ہے چاہے ایران کا معاملہ ہو یا قطر کی صورتحال، پاکستان کی بروقت اور نپی تلی سفارتی چالوں نے علاقائی طاقتوں کو نئی بصیرت عطا کی ہے۔
اختیار ولی کا کہنا ہے کہ سعودی ولی عہد کے ساتھ بڑی تعداد میں سرمایہ کار اور کاروباری شخصیات کا ایک غیر معمولی وفد بھی پاکستان آ رہا ہے جو یہاں بڑی سرمایہ کاری کے منصوبوں کا اعلان کرے گا۔
اختیار ولی خان مزید کہا کہ جب بڑے مرض کا علاج شروع ہو جاتا ہے تو چھوٹے مسائل خود بخود ختم ہو جاتے ہیں، یہ ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ اس یقین کا اظہار ہے کہ پاکستان کی معیشت، دفاع اور سفارت کاری ایک ہم آہنگ دائرے میں داخل ہو چکی ہے جہاں صرف ردعمل نہیں بلکہ پیش قدمی اور منصوبہ بندی فیصلہ کن کردار ادا کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دفاعی و معاشی کامیابیوں نے پاکستان کو اپنی تقدیر خود لکھنے کے قابل بنا دیا، رانا ثنااللہ
انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی جوڑی کو قوم کا اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں قائدین کی ہم آہنگ قیادت نے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک نئی شناخت دی ہے۔





