بھارتی میڈیا خیبر پختونخوا کے علاقے وادیٔ تیراہ میں بھارتی خفیہ ایجنسیوں اور فتنہ الہندوستان کا کٹھ جوڑ ایک بار پھر بے نقاب ہو گیا ہے، بھارتی میڈیا جعلی ویڈیو اور تصاویر کےذریعے وادی تیراہ میں واقعے کو فتنہ الہندوستان کے خوارج دہشتگردوں کا حملہ قرار دے کر جھوٹا پروپیگنڈا کر رہا ہے۔
بھارت اور پاکستان میں سرگرم عمل فتنہ الہندوستان خوارج دہشتگردوں کے گٹھ جوڑ کی جانب سے تیرہ وادی میں شہریوں پر فضائی حملوں کی جھوٹی تصاویر پھیلانے کی کوشش بے نقاب ہو گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایک منظم جھوٹا پروپیگنڈا منظر عام پر آیا ہے جس میں فتنہ الہندوستان دہشتگردوں اور بھارتی گٹھ جوڑ ملوث پایا گیا ہے۔ اس جھوٹے بیانیے کے تحت سوشل میڈیا پر پرانی تصاویر پھیلائی جا رہی ہیں تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ خیبر پختونخوا کے علاقے تیرہ وادی میں پاکستانی فضائی حملے شہری آبادی کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
ادھربھارتی میڈیا بھی بریکنگ نیوز کے طور پر خبریں چلا کر پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں خوارج دہشتگردوں نے وادی تیراہ میں ڈرون سے حملہ کیا ہے، سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر بھی شیئر کی جا رہی ہیں جن میں وادی تیراہ کے کسی واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سب سے زیادہ وائرل ہونے والی تصویر یعنی ان دعووں سے کئی ماہ قبل دراصل مئی 2025 میں فیس بک پر پوسٹ کی گئی تھی،۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس قسم کی جھوٹی معلومات کا مقصد پاکستان کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچانا اور سرحدی علاقوں میں بدامنی کو ہوا دینا ہے۔ حکام نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی تصویر، ویڈیو یا خبر کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق ضرور کریں، خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں امن و امان کی صورتحال نازک ہو۔
متعلقہ حکام اس مہم کے ذرائع کی تحقیقات کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ مل کر گمراہ کن مواد کو ہٹانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔





