اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے واضح کیا کہ ’مشن نور‘ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی باتیں بے بنیاد ہیں اور پارٹی کی جانب سے اس کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ شوشہ کس نے چھوڑا، انہیں معلوم نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی صرف بانی پی ٹی آئی کی ہدایات پر چلتی ہے، سوشل میڈیا پر نہیں، کیونکہ سوشل میڈیا ایک غیر کنٹرولڈ پلیٹ فارم ہے جہاں کوئی بھی کچھ بھی پوسٹ کرسکتا ہے۔
توشہ خانہ ٹو کیس سے متعلق بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آج کیس کی سماعت تھی مگر ملاقات کی اجازت نہیں ملی اور اس کی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی گئی، تاہم اُمید ہے کل ملاقات ہو جائے گی کیونکہ حالات میں بہتری کے لیے ملاقات ضروری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کا ریاست مخالف کوئی ایجنڈا نہیں، بلکہ ہم صرف آئین، قانون اور جمہوریت کی بالادستی چاہتے ہیں۔
جی ایچ کیو حملہ کیس پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ملزم ہیں، اور فیئر ٹرائل کے اصول کے تحت انہیں صفائی کا مکمل موقع ملنا چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان نئے دفاعی معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی امت مسلمہ کے اتحاد اور مضبوطی کی حمایت کرتی ہے۔





