ٹیسٹ اور ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کے معروف کرکٹ امپائر ڈکی برڈ 92 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔
ڈکی برڈ نے اپنے کیریئر میں 66 ٹیسٹ میچز اور 69 ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں امپائرنگ کے فرائض انجام دیے جن میں تین ورلڈ کپ فائنلز بھی شامل تھے، وہ امپائرنگ کے میدان میں اپنی ممتاز خدمات کی بنا پر جانے جاتے تھے۔
ڈکی برڈ کو ان کی کرکٹ اور خیراتی خدمات کے اعتراف میں 1986 میں میمبر آف دی آرڈر آف دی برٹش ایمپائر اور 2012 میں آفیسر آف دی آرڈر آف دی برٹش ایمپائر کے اعزازات سے نوازا گیا۔
ڈکی نے اپنے ذاتی وسائل سے علاقے بھر کے بچوں کی خیراتی تنظیموں کو ایک ملین پاؤنڈ سے زائد عطیہ کیے، انہوں نے خاص طور پر بارنسلے ہسپتال کی ٹائنی ہارٹس اپیل کے لیے ایک لاکھ پاؤنڈ سے زائد کی رقم دینے کا وعدہ کیا تھا۔
ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں 2000 میں بارنسلے کی فریڈم آف بارنسلے کا اعزاز بھی دیا گیا، 2009 میں شہر کے وسط میں ان کے مشہور امپائر انداز کی عکاسی کرنے والا ایک مجسمہ نصب کیا گیا۔
ڈکی برڈ کی خودنوشت 1997 میں شائع ہوئی جس کی ایک ملین سے زائد کاپیاں فروخت ہوئیں، اس کتاب کا مقدمہ مشہور بارنسلے کے مائیکل پارکنسن نے لکھا تھا جو ان کے دیرینہ دوست تھے۔
یہ بھی پڑھیں: انتظار ختم !ایشیا کپ T20، پاکستان کا مقابلہ آج سری لنکا سے ہوگا
ڈکی برڈ بارنسلے فٹبال کلب کے پرستار بھی تھے اور اس ماہ کے اوائل میں ریڈنگ کے خلاف ان کے آخری ہوم میچ میں بھی موجود تھے، ڈکی کو یارکشائر کرکٹ کلب سے بھی گہرا عشق تھا اور وہ 2014 میں اس کے صدر بھی رہے۔





