نیویارک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے کہا ہے کہ فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کے لیے مخصوص شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ فلسطینی ریاست کی تسلیم صرف تب ممکن ہے جب حماس کو مستقبل کی فلسطینی حکومت سے الگ رکھا جائے اور اسرائیلی قیدیوں کی مکمل رہائی یقینی بنائی جائے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیویارک میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے میلونی نے کہا کہ غزہ کے بحران کا حل اسی وقت ممکن ہوگا جب فلسطینی عوام کو ایسی سیاسی نمائندگی ملے جو دہشت گردی اور انتہا پسندی سے پاک ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ حماس کے فلسطینی حکومت میں شمولیت کے عزائم ترک کیے بغیر وہاں امن قائم نہیں ہو سکتا۔
اٹلی کی وزیراعظم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ دباؤ اسرائیل پر نہیں بلکہ حماس پر ڈالے کیونکہ یہ جنگ حماس نے شروع کی تھی اور اس کے خاتمے میں رکاوٹیں بھی وہی پیدا کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ہمیشہ مضبوط اور مستحکم رہیں گے، سعودی سفیر
یاد رہے کہ حالیہ ہفتوں میں آئرلینڈ، اسپین اور لکسمبرگ جیسے یورپی ممالک نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے، جب کہ جرمنی اور اٹلی جیسے ممالک نے اس تسلیم کو بعض شرائط سے مشروط رکھا ہے۔
اس طرح یورپی یونین کے اندر فلسطینی ریاست کے معاملے پر اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔





