مودی کی سفاک سیاست نے بھارت کو فاشزم کی تجربہ گاہ بنا دیا

بھارت میں انتہا پسند نریندر مودی کی قیادت میں ایک بار پھر مسلم مخالف فسادات بھڑک اٹھے ہیں، حالیہ مذہبی تنازع کی چنگاری کانپور سے اٹھی جس نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

ہندوتوا ایجنڈے پر گامزن مودی حکومت نے 4 ستمبر کو کانپور میں 2002 کے گجرات فسادات کی یاد تازہ کرتے ہوئے ایک بار پھر “گجرات ٹو” دہرانے کی کوشش کی۔

انڈیا ٹوڈے کے مطابق فرقہ وارانہ کشیدگی کے بعد نہ صرف گجرات بلکہ کئی دیگر ریاستوں میں بھی پرتشدد جھڑپوں کے واقعات پیش آئے جن میں درجنوں معصوم مسلمان زخمی ہوئے۔

پولیس اور انتظامیہ کی جانبداری ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی جب اتر پردیش کے مختلف اضلاع میں مظاہرہ کرنے والے مسلمانوں کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں اب اظہارِ رائے اور مذہبی آزادی صرف ہندوتوا نظریے کی حدود میں رہ کر ہی ممکن ہے، مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے لیے بھارت ایک جبر و استبداد کا گڑھ بنتا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی صدر ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کا اعلامیہ جاری

مودی کی نام نہاد جمہوریت آج پوری دنیا کے سامنے ایک فاشسٹ نظام حکومت کی شکل اختیار کر چکی ہے، جہاں انسانی حقوق، عدالتی انصاف اور اقلیتوں کا تحفظ محض کاغذی دعوے بن چکے ہیں۔

Scroll to Top