پشاور ہائیکورٹ نے متعدد افغان شہریوں کی ملک بدری روک دی

پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس وقار احمد اور جسٹس کامران حیات میانخیل پر مشتمل ڈویژن بینچ نے ان افغان شہریوں کی ملک بدری روک دی جو پاکستانی خواتین کے شوہر اور پاکستانی بچوں کے والد ہیں۔

یہ افغان شہری پاکستان اور افغان مہاجرین کی رجسٹریشن کارڈز (ACC اور POR) کی معیاد ختم ہونے کے بعد ملک بدری مہم کے دوران پاکستان اوریجن کارڈ (POC) کے حصول کے لیے درخواست گزار تھے۔ پاکستانی خواتین کی جانب سے درجنوں رٹ پٹیشنز دائر کی گئیں جن میں ان کے افغان شوہروں کے لیے پاکستان اوریجن کارڈز کے اجراء کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ کارڈ پاکستان میں مستقل رہائشی حیثیت فراہم کرتا ہے۔

نمایاں مقدمہ مسماۃ حسنیٰ کی جانب سے دائر کیا گیا جس نے اپنے شوہر مسعود کے لیے پی او سی جاری کرنے کی استدعا کی تھی۔ ان کے دو بچے پاکستانی شہریت رکھتے ہیں۔درخواست گزاروں کی جانب سے ایڈووکیٹ سیف اللہ محب کاکاخیل اور ایڈووکیٹ نعمان محب کاکاخیل پیش ہوئے۔

وکلاء نے دلائل دیے کہ پاکستانی خواتین کے افغان شوہر اور پاکستانی بچوں کے والدین پاکستان کے قانون کے مطابق پاکستان اوریجن کارڈ کے حقدار ہیں کیونکہ خاندان کے ساتھ جینے کا حق آئین پاکستان کے آرٹیکل 4، 9، 14 اور 25 کے تحت بنیادی حق ہے۔ مزید یہ کہ ان شادیوں سے پیدا ہونے والے بچے پاکستانی شہریت کے قانون 1951ء کی دفعہ 4 کے تحت پیدائشی طور پر پاکستانی شہری ہیں۔ اس لیے ریاست پر آئینی اور بین الاقوامی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خاندان کے تقدس کا تحفظ کرے۔

وکلاء نے مزید کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے افغان مہاجرین کی ملک بدری شروع کر چکے ہیں کیونکہ ان کے ACC/POR کارڈز اب پاکستان میں قیام کے لیے قابلِ قبول دستاویز نہیں رہے۔ اس صورتحال میں پاکستانی خواتین کے افغان شوہر جو بیک وقت پاکستانی بچوں کے والد بھی ہیں اور پی او سی کے مکمل طور پر اہل ہیں صرف سکیورٹی کلیئرنس کے طویل اور پیچیدہ عمل کی وجہ سے اپنے کارڈ کے اجراء سے محروم ہیں اور انہیں روزانہ ہراساں کیا جا رہا ہے۔

وکلاء نے بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کا حوالہ دیا اور مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان عالمی معاہدات جیسے عالمی اعلامیہ برائے انسانی حقوق (آرٹیکل 16: خاندان کا تحفظ، آرٹیکل 15: شہریت کا حق) اور بین الاقوامی عہد نامہ برائے شہری و سیاسی حقوق (آرٹیکل 23: خاندان کے تحفظ) کا فریق ہے۔ لہٰذا افغان شوہروں کو ان کے پاکستانی خاندانوں اور بچوں سے زبردستی جدا کرنا ان بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے حکم دیاکہ چونکہ پٹیشنر نمبر 2 پاکستانی شہریوں کا خاندانی رکن ہے، لہٰذا اسے ملک بدر نہ کیا جائے جب تک نادرا اس کے پاکستان اوریجن کارڈ کے اجراء کا فیصلہ نہیں کر لیتی یا چھ (06) ماہ کی مدت پوری نہیں ہو جاتی جو بھی پہلے آئے۔

عدالت عالیہ نے درخواست گزاروں کے حق میں حکم امتناعی جاری کردیے اور نوٹسز بھی جاری کردیے۔

Scroll to Top