شاہد جان
پشاور: صدر پی ٹی آئی ضلع پشاور عرفان سلیم کی قیادت میں پارٹی کی ضلع تنظیم کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں عمران خان کی کال پر ہونے والے پشاور جلسے کی کامیابی پر عوام کا شکریہ ادا کیا گیا۔
اجلاس میں جلسے کے انتظامات دورانِ جلسہ پیش آنے والے واقعات اور پولیس کارروائی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔
جلسے کے دوران صحافیوں کے ساتھ ناروا سلوک، پولیس تشدد اور انتظامی خامیوں کا ذکر کیا گیا۔ ضلعی تنظیم نے موقف اختیار کیا کہ اسٹیج کی ذمہ داری، اسٹیج لسٹنگ اور دیگر انتظامی اختیارات ان کے ماتحت نہیں تھے، سوائے اس ایک سیکیورٹی چیک پوسٹ کے جس پر کابینہ کا ایک رکن موجود تھا۔
اجلاس نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ناقص انتظامات اور پولیس رویے کے باعث کارکنان اور مہمانوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس مسئلے کی تحقیقات کے لیے ایک تین رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی گئی، جس کی سربراہی ایڈیشنل جنرل سیکرٹری قادر نواز کریں گے، جبکہ دیگر ارکان میں سینئر نائب صدر عامر سہیل خلیل اور نائب صدر رفیع اللہ شامل ہیں۔
کمیٹی اپنی سفارشات ضلعی تنظیم کو پیش کرے گی، جو اس کے بعد ریجن اور صوبائی تنظیموں اور پارٹی اراکین کے سامنے پیش کی جائیں گی۔
ضلعی تنظیم نے اعلان کیا کہ آئندہ کسی بھی سیاسی سرگرمی کی ذمہ داری صرف پشاور تنظیم پر ہوگی اور اگر مشاورت کے بغیر کوئی پروگرام کامیاب نہ ہوا تو اس کی پوری ذمہ داری متعلقہ افراد پر ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں تیسرے ضمنی بلدیاتی انتخابات: آج امیدواروں کو انتخابی نشانات الاٹ کیے جائیں گے
اجلاس نے متنبہ کیا کہ کارکنوں کے ساتھ کسی بھی شخص کی جانب سے نامناسب رویہ برداشت نہیں کیا جائے گا، اور مستقبل میں ایسے واقعات ناقابلِ قبول تصور کیے جائیں گے۔
اجلاس نے اس بات کا خیرمقدم کیا کہ مئیر تحصیل متھرا نے ان واقعات پر معذرت کی ہے، اور معذرت قبول کرنے کے بعد کمیٹی نے متعلقہ امور کی ازسرِ نو نگرانی کرنے کا عزم کیا۔
اخیر میں پی ٹی آئی ضلع پشاور نے تمام مہمانوں اور کارکنان سے دل ازاری پر معذرت کی، اور یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اور موثر اقدامات اٹھائے جائیں گے۔





