وزیرستان میں تجارتی سرگرمیاں بحال، انگور اڈہ بارڈر 2 سال بعد کھل گیا

وزیرستان میں تجارتی سرگرمیاں بحال، انگور اڈہ بارڈر 2 سال بعد کھل گیا

جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں پاک افغان سرحد پر واقع انگور اڈہ بارڈر گیٹ کو تقریباً دو سال بعد دوبارہ کھول دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں علاقے میں تجارتی سرگرمیوں کی بحالی اور معاشی بہتری کی امید کی جا رہی ہے۔

بارڈر کھولنے کی افتتاحی تقریب میں رکن قومی اسمبلی زبیر وزیر اور ڈپٹی کمانڈر خمرانگ بریگیڈ خصوصی مہمان تھے۔ اس موقع پر قبائلی عمائدین، علمائے کرام، اسکول کے بچے اور مقامی شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی، جنہوں نے اس تاریخی اقدام کا خیرمقدم کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی زبیر وزیر نے کہا کہ’’انگور اڈہ بارڈر کا دوبارہ کھلنا جنوبی وزیرستان کے عوام کے لیے روزگار اور ترقی کی نئی راہیں کھولے گا۔ اس اقدام سے نہ صرف بے روزگاری میں کمی آئے گی بلکہ قومی خزانے کو بھی فائدہ پہنچے گا۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ علاقہ طویل عرصے سے کاروباری جمود کا شکار تھا، اب معیشت کا پہیہ دوبارہ چل پڑے گا اور نوجوانوں کو بہتر مستقبل کی امید ملے گی۔

صدر چیمبر آف کامرس وزیرستان، سیف الرحمان نے کہا کہ’’گزشتہ دو سال سے وزیرستان کا کاروبار مکمل طور پر بند تھا، لیکن اب انگور اڈہ بارڈر کے دوبارہ کھلنے سے تجارتی سرگرمیاں زور پکڑیں گی۔ خاص طور پر وزیرستان کے مشہور چلغوزے، خشک میوہ جات اور تازہ پھل اب عالمی منڈیوں تک آسانی سے پہنچ سکیں گے۔‘‘

انگور اڈہ بارڈر کھلنے کی خبر سے مقامی تاجروں، کسانوں اور مزدور طبقے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف پاک افغان تجارتی تعلقات کو فروغ دے گا بلکہ سرحدی علاقوں کے عوام کے لیے امید کی نئی کرن ثابت ہوگا۔

Scroll to Top