کیا مشرقِ وسطیٰ کا 3,000 سال پرانا تنازع ختم ہو جائے گا؟ ٹرمپ کیا کہتے ہیں اس بارے میں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے قدیم ترین تنازع کو ختم کر کے اسرائیل اور غزہ کے درمیان مکمل امن قائم کر سکتے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مشرقی وسطیٰ کا مسئلہ تقریباً 3,000 سال پرانا ہے جسے وہ اپنے ممکنہ آئندہ دورِ صدارت میں حل کرنا چاہتے ہیں۔

ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا مسئلہ تقریباً 3,000 سال بعد حل ہو سکتا ہے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس صرف غزہ نہیں ہوگا ہمارے پاس غزہ کے ساتھ امن بھی ہوگا مکمل امن یہ ایک حیرت انگیز کامیابی ہوگی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے پہلے بھی اسرائیل اور عرب ریاستوں کے درمیان ابراہیمی معاہدوں میں کردار ادا کیا تھا، جنہیں وہ اپنی صدارت کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پیوٹن سے ملاقات کے بعد کم جونگ کی کرسی اور گلاس تک صاف، سکیورٹی خدشات یا خفیہ احتیاط؟وجہ کیابنی ؟ جانئے

ٹرمپ کے حالیہ بیان پر تنقید بھی کی جا رہی ہے کیونکہ تاریخی طور پر موجودہ ریاست اسرائیل کا قیام 1948 میں عمل میں آیا تھا جبکہ برطانوی انتداب کے تحت فلسطین کا علاقہ تقسیم کیا گیا تھا۔

Scroll to Top