دہلی: بھارتی آرمی چیف جنرل اُپندر دویدی نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بار بھارت وہ ضبط نہیں کرے گا جو آپریشن سندور 1 کے دوران کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس بار ایسا اقدام کیا جائے گا کہ پاکستان کو سوچنا پڑے گا کہ آیا وہ جغرافیہ میں رہنا چاہتا ہے یا نہیں۔
اس سے قبل معرکہ حق میں پاکستانی کامیابی کے 150 دن گزرنے کے بعد بھارتی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ نے ایک ایسا دعویٰ کر دیا جس پر ہنسی روکی نہیں جا سکتی۔
ان کے مطابق بھارتی فضائیہ نے پاکستان کے جے ایف 17 اور ایف 16 طیارے مار گرائے، حالانکہ وہ طیارے لڑائی میں شامل ہی نہیں ہوئے تھے۔
یہ دعویٰ جنگ ختم ہونے کے 150 روز بعد سامنے آیا لیکن جب بھارت کو ہونے والے نقصانات سے متعلق سوال پوچھا گیا تو بھارتی ایئر چیف نے کوئی تسلی بخش جواب دینے کے بجائے خاموشی اختیار کرلی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ دنیا نے اپنی آنکھوں سے بھارتی رافیل اور مگ 29 کے ملبے کو دیکھا، لیکن بھارتی حکام آج بھی سچائی سے نظریں چرا رہے ہیں۔
پاکستانی ایئر فورس نے لڑائی کے دوران چھ صفر کے اسکور کی واضح گواہی دی تھی حتیٰ کہ اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بارہا تصدیق کی کہ بھارت کے سات جنگی طیارے گرائے گئے تھے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیرِ دفاع راجناتھ سنگھ کے بیان سے لے کر وزارتِ خارجہ کے سرکاری موقف تک یہ تمام بیانات ایک تسلسل کا حصہ ہیں۔ ان بیانات کا تسلسل کشمیر کی موجودہ صورتحال سے جڑا ہو سکتا ہے اور ممکنہ طور پر وہاں ہونے والی کشیدگی دشمن ایجنڈے کے تحت بڑھائی جا رہی ہے۔





