اسلام آباد/مظفرآباد: آزاد کشمیر میں جاری احتجاجی تحریک کے خاتمے کی راہ ہموار ہوگئی ہے، حکومتی مذاکراتی کمیٹی اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے بعد مظاہرین نے واپسی کا عمل شروع کر دیا اور تمام بند سڑکیں کھول دی گئیں۔
وزیراعظم کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اور وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ حتمی معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں اسے امن کی فتح قرار دیا۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی معاہدے کو جمہوریت، پاکستان اور آزاد کشمیر کی فتح قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ عوامی مسائل کی وجہ سے ایک پیچیدہ صورتحال پیدا ہوئی تھی، جسے مقامی و قومی قیادت کی حکمت، مکالمے اور باہمی احترام کے ذریعے پرامن طور پر حل کیا گیا۔
احسن اقبال نے اپنے بیان میں کہا نہ تصادم ہوا، نہ تقسیم، بلکہ ہم نے انا کے بجائے مشاورت اور یکجہتی کو ترجیح دی۔
انہوں نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے عوامی آواز بلند کرنے اور حکومت کی طرف سے سنجیدگی سے سننے کے عمل کو ایک تعمیری اور مثبت مکالمہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ جب حکومت عوام کی بات سنتی ہے، تو مسائل کا حل نکل آتا ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں وفاقی حکومت آزاد جموں و کشمیر میں بہتر طرز حکمرانی اور ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون کرے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں مہنگائی، بنیادی سہولیات کی کمی اور دیگر عوامی مطالبات کے حوالے سے عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت میں احتجاجی مظاہرے جاری تھے، جنہیں اب اس معاہدے کے بعد ختم کر دیا گیا ہے۔





