پشاور : وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ ایمل ولی خان کی جانب سے سیکیورٹی سے متعلق اٹھائے گئے اعتراضات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سراسر زیادتی اور بدنیتی پر مبنی عمل ہے۔
وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ذاتی طور پر ایمل ولی سے رابطہ کیا اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ اُن کے مطابق دو اضلاع کے پولیس افسران نے ایسی فہرست طلب کی جس میں وہ اہلکار شامل ہوں جن پر انہوں نے اعتماد کیا ہو، مگر وہ فہرست فراہم نہیں کی گئی۔
باوجود اس کےوزیراعلیٰ کے حکم پر ایمل ولی کو ایک صوبائی وزیر سے زیادہ تعداد میں سیکیورٹی اہلکار فراہم کیے گئے۔
گنڈاپور نے سوال اٹھایا کہ سیکیورٹی اہلکار پولیس لائن سے آئے یا مقامی تھانے سے، اس میں کیا مسئلہ ہے؟ اہم بات یہ ہے کہ ان کی حفاظت کو یقینی بنایا گیا، جو کہ وعدہ بھی کیا گیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ ایمل ولی خان بلوچستان سے سینیٹر منتخب ہوئے ہیں، اس لیے ان کی سیکیورٹی کی آئینی ذمہ داری بلوچستان حکومت اور وفاقی اداروں پر ہے، مگر انہوں نے سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر اُنہیں سیکیورٹی فراہم کی۔
یہ بھی پڑھیں : انڈونیشیا میں پاکستان کی تائیکوانڈو شہزادی کی شاندار کامیابی، دو میڈلز اپنے نام کر لیے
وزیراعلیٰ نے خبردار کیا کہ اگر یہ معاملہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا ذریعہ بن جائے تو یہ عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ شکوے اور طنزیہ بیانات دینا اس بات کا عندیہ ہے کہ مقصد سیکیورٹی نہیں بلکہ سیاست کو اُجاگر کرنا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ متعلقہ تصاویر صبح سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئیں کیونکہ ایمل ولی کی پوری پارٹی اس معاملے کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کرنے میں مصروف ہے۔





