عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صدر ایمل ولی خان نے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے فراہم کردہ سیکیورٹی اہلکاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ذاتی سکیورٹی پر مکمل بھروسہ ہے، حکومت کی فراہم کردہ سکیورٹی کی کوئی ضرورت نہیں۔
قومی اخبار (روزنامہ جنگ ویب سائٹ )کے مطابق ایمل ولی خان کا یہ بیان اُس وقت سامنے آیا جب خیبر پختونخوا حکومت نے دعویٰ کیا کہ وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی ہدایت پر ان کی سیکیورٹی کے لیے 12 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
حکومتی اعلامیے کے مطابق، اسلام آباد میں ایمل ولی خان کے ساتھ 4 اہلکار جبکہ چارسدہ میں ولی باغ میں ان کی رہائش گاہ پر 8 اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
تاہم، اے این پی کے سربراہ نے حکومتی موقف کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’’مضحکہ خیز اور گمراہ کن‘‘قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے پولیس اہلکاروں کی جاری کی گئی تصاویر میرے ذاتی سیکیورٹی اہلکاروں کی نہیں ہیں۔ ایک جھوٹا تاثر دیا جا رہا ہے کہ پولیس سیکیورٹی واپس کر دی گئی ہے۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ’’میرے ذاتی سیکیورٹی اہلکار ولی باغ میں موجود ہیں، مجھے حکومت کی کسی سیکیورٹی کی ضرورت نہیں۔ یہ سب حکومتی ڈرامے ہیں، جو بند ہونے چاہئیں۔‘‘ایمل ولی خان کے اس بیان نے صوبائی حکومت کی جانب سے کیے گئے دعوؤں پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے، اور سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔





