اسلام آباد: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حالیہ بیانات پر سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے جس کے بعد پیپلز پارٹی نے سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی اجلاس سے بھی واک آؤٹ کر دیا۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پیپلز پارٹی کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی واقعی سنجیدہ ہے تو وہ مرکز میں عدم اعتماد کی تحریک پیش کرے، تحریک انصاف اس کا ساتھ دے گی اوراس حکومت کو فارغ کرنے میں ہم اس کا ساتھ دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پیپلز پارٹی کے “فرینڈلی فائر” کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما راجا پرویز اشرف نے کہا کہ ہم پنجابی ضرور ہیں، لیکن سب سے پہلے پاکستانی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس تنازع کو مزید ہوا نہیں دینا چاہتے، اور کسی کا نام لیے بغیر صرف یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بلاول بھٹو نے وزیر اعلیٰ پنجاب کی تعریف کی تھی، اس کے باوجود حالات کو ایک خاص رخ دیا جا رہا ہے۔
راجا پرویز اشرف نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ وفاق کی مضبوطی کی بات کرتی آئی ہے، ہم “پاکستان کھپے” کا نعرہ لگانے والے لوگ ہیں اور ہماری جماعت نے ہمیشہ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صوبائیت کی فضا دوبارہ پیدا ہوئی تو اس کے نتائج خطرناک ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے جلسے کی ناکامی، ذمہ داری وزیراعلیٰ کے ترجمان پر ڈال دی گئی
ان کا کہنا تھا کہ جب تک پنجاب کی جانب سے واضح وضاحت اور اطمینان نہیں دیا جاتا پیپلز پارٹی پارلیمانی کارروائی میں حصہ نہیں لے سکتی۔
انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ پنجاب اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر کی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔





