خیبرپختونخوا کابینہ کا چالیسواں اجلاس کل دوپہر دو بجے سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوگا۔ اجلاس کی صدارت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کریں گے۔
اجلاس میں مختلف محکموں کی اہم سمریاں اور ترقیاتی منصوبے زیرِ غور آئیں گے۔ کابینہ اجلاس کیلئے 18 نکاتی ایجنڈا تیار کیا گیا ہے ۔
اجلاس میں صوبائی حکومت کی شہداء پالیسی کے تحت شہداء کے بیٹوں اور بیواؤں کی بھرتی کی منظوری دی جائے گی جبکہ ایف ایس اے کے پی کیمپس کے قیام کے لیے زمین کی الاٹمنٹ پر بھی غور کیا جائے گا۔
مردان رنگ روڈ کے لیے زمین کے بقایاجات کی ادائیگی، سوات ایکسپریس وے کے ٹول ریٹس میں 20 فیصد اضافے کی تجویز، اور خواتین کو ہراسانی سے تحفظ کے قانون 2010 میں ترامیم جیسے نکات بھی ایجنڈے میں شامل ہیں۔
سرکاری گاڑیوں کی خریداری پر عائد پابندی میں نرمی، پشاور کی عدالتوں کے لیے انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن، اور ضلعی و سیشن ججز کے لیے 25 ناقص گاڑیوں کی تبدیلی کے معاملات بھی اجلاس میں زیرِ بحث آئیں گے۔
اسی طرح سیاحت کے فروغ کے لیے “ڈویلپمنٹ اتھارٹیز آف خیبرپختونخوا” کے منصوبے، پشاور میوزیم میں HVAC نظام کی تنصیب کے لیے گرانٹ، اور ترقیاتی بجٹ 2025-26 میں پرانے منصوبوں کے وسائل کو نئے منصوبوں میں ضم کرنے جیسے فیصلے متوقع ہیں۔مزید برآں، “کمیونٹی ڈیری اینڈ میٹ ڈیویلپمنٹ” اسکیم میں 50/50 لاگت کی شراکت داری کے تحت ترمیم، خیبرپختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کے رکن ڈاکٹر عبدالولی خان کی مدتِ ملازمت میں توسیع، اور تحقیقی اداروں کو “سینٹرز آف ایکسی لینس” میں اپ گریڈ کرنے کی تجاویز پر بھی غور کیا جائے گا۔
کابینہ کے ایجنڈے میں کے پی ٹی اینڈ جی ایس سی کو 50 کروڑ روپے بطور سرمایہ فراہم کرنے، مڈیاں ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے لیے 245 کنال زمین کے حصول، اور مستحق مریضوں کے طبی علاج کے لیے مالی امداد کی منظوری بھی شامل ہے۔
اس کے علاوہ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں قبرستان کے لیے زمین کی نشاندہی کا معاملہ بھی پیش کیا جائے گا۔





